10/23/2026
ایک اور سنگچور سانپ کے کاٹنے کی کیس رپورٹ: 📝
ٹی ایچ کیو کوٹ مومن / ڈی ایچ کیو سرگودھا - 🏥
کیس نمبر # 𝟭𝟱
تاریخ: 22 اکتوبر 2026 کی رات
پہلی اطلاع کا وقت: رات 1:37 بجے
کوٹ مومن کے علاقے سے گزشتہ رات 1:37 بجے سنگچور سانپ کے کاٹنے کا ایک اور کیس ہمیں سانپ کی شناخت کی تصدیق کے لیے رپورٹ کیا گیا۔ ایک 40 سالہ خاتون کو فرش پر سوتے ہوئے زہریلے کامن کریٹ سانپ نے کاٹ لیا تھا اور انہیں ایک گھنٹے کے اندر ہسپتال لایا گیا تھا۔ گھر والوں نے سانپ کو فوراً دیکھ کر مار دیا تھا، جس سے اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ یہ اس زہریلے سانپ کا کاٹا ہی تھا۔
ہماری ٹیم نے فوری طور پر 1:48 بجے انہیں جواب دیا اور سانپ کی نسل - شناخت کی تصدیق زہریلے ترین کامن کریٹ کے طور پر کی۔ اس کیس کو فوری طور پر تمام دستیاب تفصیلات کے ساتھ ہمارے سینئر سنیک بائٹ سپورٹ ایکسپرٹ کو بھیج دیا گیا۔
ابتدائی طور پر موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، ڈیوٹی ڈاکٹروں نے مریضہ کا معائنہ کیا اور کندھے پر سانپ کے کاٹنے کے نشانات پائے۔ ٹی ایچ کیو کوٹ مومن میں ابتدائی علاج شروع کیا گیا جس میں اینٹی سنیک وینم (اے ایس وی) کی 1 وائل شامل تھی اور مریضہ کو بہتر علاج کی سہولیات کے لئے فوری طور پر ڈی ایچ کیو سرگودھا ریفر کر دیا گیا۔ ریفرل کے وقت مریضہ کی حالت مستحکم بتائی گئی تھی۔
مناسب رہنمائی اور مسلسل رابطے کو یقینی بنانے کے لیے لواحقین کا رابطہ نمبر حاصل کیا گیا۔ ہم نے ساری رات مسلسل خاندان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ہمارے آخری رابلطے کی کوشش تک انکا نمبر صبح تقریباً 7:30 بجے تک بند رہا۔ ہم اس امید پر اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے کہ مریضہ کا علاج ڈی ایچ کیو سرگودھا میں جاری ہوگا۔ اس دوران ہم نے سرگودھا کے آس پاس کے دیگر ہسپتالوں (پی اے ایف ہسپتال اور سی ایم ایچ) میں اے ایس وی کی دستیابی بھی چیک کی اور تصدیق کی تاکہ کسی کمی بیشی کی صورت میں ہر ممکنہ مدد کی جا سکے۔ ہم نے خاندان کے واٹس ایپ پر قریبی ہسپتالوں کے بارے میں تفصیلی پیغامات بھی چھوڑے جہاں سانپ کے کاٹے کی ایمرجنسی کیئر اور اے ایس وی دستیاب ہے۔
صبح ہم آخر کار خاندان کے ایک مرد رکن سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انہیں یہ بتاتے ہوئے کہ ہم پچھلے 10 گھنٹوں سے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ہم نے مریضہ کی حالت کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ مریضہ ڈی ایچ کیو سرگودھا پہنچنے کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں، آدھی رات کے فوراً بعد وفات پا چکی ہیں۔
ہم نے ڈی ایچ کیو سرگودھا میں فراہم کیے گئے علاج کے بارے میں پوچھا، جس میں اے ایس وی لگانا، سانس کی مدد، اور ضروری ٹیسٹ جیسے آئی این آر، پی ٹی/اے پی ٹی ٹی شامل ہیں۔ افسوس کے ساتھ، خاندان کے رکن کے کہنے کے مطابق، نہ اے ایس وی، نہ سانس کی مدد، اور نہ ہی کوئی متعلقہ ٹیسٹ فراہم کیا گیا تھا۔
چونکہ ہم موقع پر موجود نہیں تھے، اس لیے ہم تمام حقائق جانے بغیر کسی پر بھی الزام نہیں لگا سکتے اور نہ لگاتے ہیں کہ ہسپتال میں زہریلے سانپ کے کاٹے کے علاج سے متعلق کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا۔
ہمیں اس تکلیف دہ لمحے میں، غمزدہ خاندان سے مزید تفصیلات پوچھنا مناسب محسوس نہیں ہوا۔
ہمیں گہرا دکھ ہے کہ ہم رات بھر خاندان تک پہنچنے کی اپنی پوری کوششوں کے باوجود وقت پر متاثرہ مریضہ کی مدد نہیں کر سکے۔
ہم ڈی ایچ کیو سرگودھا ہسپتال کی انتظامیہ سے عاجزانہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے اور تحقیقات کرے کہ آیا زہریلے سانپ کے کاٹنے کے اس اہم کیس کو سنبھالنے یا علاج میں کوئی غفلت اور کوتاہی ہوئی ہے یا کوئی اور وجہ ہے۔
کامن کریٹ کا زہر وقت کے لحاظ سے ایک حساس طبی ایمرجنسی ہے جس کے لیے فوری اے ایس وی(زہر کا تریاق)، وینٹی لیٹر سپورٹ، اور انتہائی نگہداشت وطبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
سوگوار خاندان سے ہماری دلی تعزیت! 🙏🏻
• نوٹ:
ہماری اس طرح کے کیسز کو رپورٹ اور پوسٹ کرنے کا مقصد صرف اور صرف عوامی آگاہی اور معلومات کی فراہمی ہے تاکہ لوگ جان سکیں کہ زہریلے سانپ کے کاٹنے کی صورت میں وہ فوری طور پر متعلقہ قریبی ہسپتال کیسے پہنچ سکتے ہیں جہاں انہیں سانپ کے کاٹے کا مناسب اور بروقت علاج میسر آ سکے۔ اس کے ساتھ علاقے میں اینٹی وینم کی دستیابی سے متعلق معلومات فراہم کرنا بھی ہمارا مقصد ہے تاکہ عوام مستقبل میں پیش آنے والے کسی بھی سانپ کے کاٹے کے واقعے کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکیں۔
ہمارا مقصد کسی بھی ہسپتال یا صحت کے ادارے کی تضحیک یا تشہیر کرنا نہیں ہے۔ ہم یہ تمام معلومات صرف اور صرف انسانی جانوں کو بچانے کے لیے شیئر کرتے ہیں۔
𓆗𓆓 •ٹیم ریپاٹلز آف وائلڈ• 𓆙 𓆑
---------------------------------------------------------------
𝗔𝗻𝗼𝘁𝗵𝗲𝗿 𝗛𝗶𝗴𝗵𝗹𝘆 𝗩𝗲𝗻𝗼𝗺𝗼𝘂𝘀 𝗖𝗼𝗺𝗺𝗼𝗻 𝗞𝗿𝗮𝗶𝘁 𝗦𝗻𝗮𝗸𝗲𝗯𝗶𝘁𝗲 𝗖𝗮𝘀𝗲 𝗥𝗲𝗽𝗼𝗿𝘁: 📝
𝗧𝗛𝗤 𝗞𝗼𝘁 𝗠𝗼𝗺𝗶𝗻 / 𝗗𝗛𝗤 𝗦𝗮𝗿𝗴𝗼𝗱𝗵𝗮 - 🏥
Case No # 𝟭𝟱
𝗗𝗮𝘁𝗲: Night Of 𝗢𝗰𝘁𝗼𝗯𝗲𝗿 𝟮𝟮, 𝟮𝟬𝟮𝟲
𝗧𝗶𝗺𝗲 𝗼𝗳 𝗙𝗶𝗿𝘀𝘁 𝗥𝗲𝗽𝗼𝗿𝘁: 1:37 𝗔𝗠
Another Common Krait (Sangchoor) snakebite case from the Kot Momin area was reported to us last night at 1:37 AM for species confirmation. A 40-year-old woman had been bitten by a Common Krait while sleeping on the floor and was brought to the hospital within an hour. The family saw and killed the snake right away, leaving no doubt that it was a venomous snakebite.
Our team quickly responded at 1:48 AM and confirmed the species as Common Krait. The case was immediately forwarded to our senior Snakebite Support Expert with all available details.
As per the initial information received, doctors examined the patient and found bite marks on her shoulder. Initial treatment was started at THQ Kot Momin including 1 vial of Anti-Snake Venom (ASV) and the patient was promptly referred to DHQ Sargodha. At the time of referral, the patient was reported to be stable.
To ensure proper guidance and continuous follow-up, the attendant's contact number was obtained. We attempted to contact the family continuously throughout the night, but the number remained switched off until around 7:30 AM. We continued our efforts hoping the patient was receiving treatment at DHQ Sargodha. In the meantime, we also checked and confirmed ASV availability in other hospitals around Sargodha (PAF Hospital & CMH) in case of any shortage. We also left detailed messages on the family's WhatsApp with information about nearby hospitals equipped with snakebite emergency care and ASV.
In the morning, we were finally able to establish contact with a male family member. While informing him that we had been trying to reach them for the past 10 hours, we inquired about the patient's condition. He informed us that the patient had passed away shortly after midnight, less than two hours after reaching DHQ Sargodha.
We asked about the treatment provided at DHQ Sargodha, including ASV administration, respiratory support, and necessary investigations like INR, PT/aPTT. Sadly, according to the family member, no ASV, no respiratory support, and no relevant tests were provided.
As we were not present on the spot, we cannot and do not blame anyone without knowing all the facts. At that painful moment, it did not feel appropriate to ask the grieving family for further details.
We are deeply saddened as we could not help the victim in time, despite our best efforts to reach the family throughout the night.
We humbly request the management of DHQ Sargodha Hospital to look into this matter and investigate whether there was any negligence in handling this critical snakebite case. Common Krait envenomation is a time-sensitive medical emergency that requires immediate ASV, ventilatory support, and close monitoring.
𝗢𝘂𝗿 𝗦𝗶𝗻𝗰𝗲𝗿𝗲 𝗖𝗼𝗻𝗱𝗼𝗹𝗲𝗻𝗰𝗲𝘀 𝗧𝗼 𝗧𝗵𝗲 𝗕𝗲𝗿𝗲𝗮𝘃𝗲𝗱 𝗙𝗮𝗺𝗶𝗹𝘆! 🙏🏻
• 𝗡𝗢𝗧𝗘:
We publish these cases solely for public awareness and information. The purpose is to educate people on the importance of reaching the nearest hospital immediately after a venomous snakebite, where proper and timely snakebite management can be provided. We also aim to provide information regarding the availability of antivenom in nearby facilities to help the public be better prepared to handle any future snakebite incidents.
Our intention is not to defame or fame any healthcare organization or hospital.
We share this information with the sole purpose of saving human lives.
• Reptiles of Wild
• Reptiles of Wild-2
(Snakebite Support, Emergency & Treatment Updates)
𓆗𓆓 •𝗧𝗲𝗮𝗺 𝗥𝗲𝗽𝘁𝗶𝗹𝗲𝘀 𝗢𝗳 𝗪𝗶𝗹𝗱• 𓆙 𓆑