Bewafa ha log

Bewafa ha log Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bewafa ha log, Zoo, Istanbul.

یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسو تری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہ قاضی احسان الحق نام اور احسان تخلص تھا۔ ان ک...
17/04/2022

یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسو

تری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہ

قاضی احسان الحق نام اور احسان تخلص تھا۔ ان کے والد قاضی دانش علی باغ پت ضلع میرٹھ کے رہنے والے تھے لیکن انہوں نے بعد میں کاندھلا میں سکونت اختیار کرلی۔ احسان یہیں 1913ء میں پیدا ہوئے۔
احسان دانش اس وقت شاعری کر رہے تھے جب وہ ریلوے کے دفتر میں چپراسی تھے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ انہوں نے کسی کے سامنے زانوئے ادب تہہ نہیں کیا جو بھی شعری صلاحیت پیدا ہوئی وہ کتب بینی ہی سے ہوئی۔ احسان کا شاعری کے بارے میں ایک خاص نقطہ نظر ہے۔ وہ اس کے معاشرتی پہلو کو بہت اہم سمجھتے ہیں اور شاعری کو زندگی کے قریب کر کے اس کے مسائل کا عکس پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ جذبات و خیالات اور واقعات کو عام فہم اردو میں پیش کرنا چاہئے تاکہ خواص کے ساتھ عوام بھی استفادہ کرسکیں۔ ردیف و قافیہ کی پابندی کو وہ لازمی قرار دیتے ہیں۔ احسان دانش ہندی کے غیرمانوس الفاظ استعمال نہیں کرتے۔ ان کی نگاہ میں میر، غالب اور فانی بدایونی اہم ہیں۔ میرانیس کے بھی وہ مداح رہے ہیں۔

احسان دانش ایک ترقی پسند شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ترقی پسند حضرات انہیں اپنے زمرے میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل احسان دانش بھی ویسے ہی رومانی تصورات رکھتے ہیں جو ترقی پسندوں کی روش رہی ہے۔ چانچہ ان کا ذہن بھی انقلابی ہے۔ طبقاتی کشمکش سے بیزار، مروجہ نظام حکومت سے متنفر اور عدم مساوات سے دکھی نظر آتے ہیں۔ احسان برابری اور بھائی چارگی کی تلقین کرتے ہیں۔ گویا ان کی نگاہ میں شعروادب زندگی سے جوجھنے کا نام ہے لیکن ان تمام امور کے باوجود احسان شاعری کی موسیقی سے ہمکنار رکھنے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کے یہاں بے ساختگی کے ساتھ ساتھ نغمگی اور ترنم کا احساس ہوتا ہے۔

احسان دانش نے شخصی مرثیے بھی لکھے ہیں۔ خصوصاً تاجور نجیب آبادی کے بیٹوں کی وفات پر ان کا مرثیہ بڑا پراثر ہے۔ احسان دانش کی تخلیقات میں ’’نوائے کارگراں‘‘، ’’چراغ آتش خاموش‘‘، ’’جادہ نو‘‘، ’’زخم مرہم‘‘، ’’مقامات‘‘، ’’گورستان‘‘، ’’شیرازہ‘‘ ، ’’لغات الاصلاح‘‘، ’’دستوراردو‘‘، ’’خضرعروض‘‘، ’’روشنی‘‘ اور ’’طبقات‘‘ اہم ہیں۔
اردو ادب کا یہ دمکتا ستارہ ۲۲ مارچ ۱۹۸۲ کو خالق حقیقی سے جا ملا۔

Address

Istanbul
34363

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bewafa ha log posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category