26/09/2026
کیا ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں شوق اجاگر ہوتا ہے۔ اللہ پاک نے انسان کی فطرت میں اپنی مخلوق کے لیے پیار اور محبت رکھی ہے، آپ جانور دیکھتے ہیں، اچھے جانور کہیں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں تو قدرتی طور پر ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، آہستہ آہستہ بہت سے لوگوں میں یہ شوق اور خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہم بھی ایسے جانور رکھیں، ان کو پالیں اور لائیو اسٹاک فارمنگ شروع کریں۔ پھر آپ اس بارے میں سوچنا شروع کرتے ہیں، تحقیق شروع کرتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ آج کل زیادہ تر لوگوں کی تحقیق فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ویڈیوز تک محدود ہو گئی ہے، اور انہی ویڈیوز میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے، اس کی بنیاد پر ہم اپنا ذہن بنا لیتے ہیں کہ فارمنگ کرنی ہے تو کون سے جانور رکھنے ہیں، کیسے رکھنے ہیں، فارم کیسا بنانا ہے اور جانوروں کو رکھنے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے۔
یہیں سے اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جانور دکھانا اور لائیو اسٹاک فارمنگ کرنا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ جو شخص کیمرے کے سامنے جانور دکھا رہا ہے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کو مکمل فارمنگ سکھا رہا ہو، اور جو شخص اپنی کامیابی دکھا رہا ہے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کو اپنی ناکامیاں، اموات، بیماریوں، خوراک کے اخراجات، مزدوری، مارکیٹ کے نقصانات اور وہ تمام چیزیں بھی بتا رہا ہو جن سے ایک حقیقی فارمر روزانہ گزرتا ہے۔ بعض لوگ نامکمل معلومات دیتے ہیں، بعض سبز باغ دکھاتے ہیں اور بعض ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا زمین پر عملی تجربے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، لیکن ہم ان کی ویڈیوز دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں، ایک خوبصورت سا ڈیرہ بناتے ہیں، جانور خرید کر لے آتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب ہم فارمر بن گئے ہیں۔
جناب، جانور خرید لینا فارمنگ نہیں ہے۔ فارم بنا لینا فارمنگ نہیں ہے۔ اچھی نسل کا جانور خرید لینا بھی فارمنگ نہیں ہے۔ اصل فارمنگ اس کے بعد شروع ہوتی ہے جب جانور آپ کے فارم پر آتا ہے اور آپ کو روزانہ اس کی خوراک، صحت، بیماری، افزائش، وزن، مینجمنٹ، موسم، مزدوری، اخراجات اور مارکیٹ کا حساب دینا پڑتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ جانور خود آپ کو بتاتا ہے کہ حقیقت کیا ہے، کیونکہ جانور سے بڑا استاد کوئی نہیں۔ وہ آپ کو سکھاتا ہے کہ کتنے بیس کا سو ہوتا ہے۔ اور فارمنگ سیکھنے کی یہ قیمت بعض اوقات اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ سو میں سے پچانوے، چھانوے فیصد لوگ یہ قیمت برداشت نہیں کر پاتے؛ کچھ بددل ہو کر فارم بند کر دیتے ہیں، کچھ اپنے جانور اونے پونے داموں فروخت کر دیتے ہیں اور کچھ مکمل طور پر اس کام سے نکل جاتے ہیں۔ جب آپ کو سمجھ آتی ہے کہ لائیو اسٹاک فارمنگ حقیقت میں کیا ہے، کہاں خرچ کرنا ہے، کہاں بچت کرنی ہے، کون سا جانور رکھنا ہے، کس علاقے اور موسم میں رکھنا ہے، چارہ کہاں سے آئے گا، مارکیٹ کہاں ہے اور کس طریقے سے اچھی پیداوار لے کر منافع کمایا جا سکتا ہے، تب تک اکثر یا تو پیسہ ختم ہو چکا ہوتا ہے یا حوصلہ۔
اس لیے اگر آپ واقعی لائیو اسٹاک فارمنگ میں آنا چاہتے ہیں تو میرا سیدھا اور دوٹوک مشورہ ہے: جانور خریدنے سے پہلے فارمز دیکھیں۔ میں ہر اس نئے فارمر کو جو میرے پاس آتا ہے صرف ایک ٹاسک دیتا ہوں: اپنے علاقے میں یا کسی بھی دوسرے علاقے میں مختلف فارمز کا سفر کریں، اگر کسی اچھے فارم کو دیکھنے کے لیے سات سو کلومیٹر بھی سفر کرنا پڑے تو کر لیں؛ یہ سفر جانور خرید کر غلطی کرنے سے کہیں سستا ہے۔ مختلف فارمز پر جائیں، لوگوں کے جانور دیکھیں، وہ جانور کس ماحول میں رکھ رہے ہیں دیکھیں، خوراک کیسے دے رہے ہیں دیکھیں، شیڈ اور مینجمنٹ کا طریقہ دیکھیں، بیماریوں اور صحت کے مسائل سے کیسے نمٹتے ہیں سمجھیں، جانور خریدتے اور فروخت کرتے کیسے ہیں دیکھیں اور سب سے اہم بات، صرف ایک فارم دیکھ کر فیصلہ نہ کریں۔ کم از کم پانچ، چھ مختلف فارمز کو مناسب وقت دیں، مختلف لوگوں کے طریقے دیکھیں، ان کے نتائج دیکھیں، سوال کریں، نوٹس لیں اور پھر ان سب چیزوں کا آپس میں موازنہ کریں۔ اگر آپ سات سو کلومیٹر سفر کرنے کے بجائے چند ویڈیوز دیکھ کر لاکھوں روپے کے جانور خریدنے کو تیار ہیں تو آپ فارمنگ نہیں کر رہے، آپ رسک لے رہے ہیں۔
پہلے زمین پر جا کر دیکھیں کہ فارمنگ ہوتی کیسے ہے، پھر فیصلہ کریں کہ آپ کو اس کام میں آنا بھی ہے یا نہیں۔ جب آپ پانچ، چھ فارمز زمین پر دیکھ چکے ہوں گے تو آپ کو اندازہ ہونا شروع ہو جائے گا کہ عملی طور پر لائیو اسٹاک فارمنگ کیسے چلتی ہے۔ یہاں سے بسم اللہ کریں، باقی باتیں بعد میں۔