03/07/2022
لمپی اسکن بیماری (Lumpy skin disease)
تعارف:
آج کل پاکستان میں مویشیوں میں ایک نئی قسم کی بیماری #پھیلاؤ (Outbreak) ہوا ہے،جو کہ پہلے کبھی یہاں نہیں ہوئی اور یہ بیماری موجودہ وقت میں سوشل میڈیا،الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں زیر بحث ہے۔جس کو ہم بیماری (Lumpy skin disease)کے نام سے جانتے ہیں۔ لمپی سکن یا گانٹھ کی بیماری جسے اب تک سندھ کے بعد پورے پنجاب کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے
گلٹی والی جلد کی بیماری مویشیوں کی ایک متعدی اور کبھی کبھار مہلک بیماری ہے جس کی خصوصیت جلد اور جسم کے دیگر حصوں پر #نوڈیول(Nodules) ہوتے ہیں۔ لمپی اسکن ڈزیز ایک #وائرل بیماری ہے جو کہ pox virus سے ہوتی ہے،یہ بیماری کروانے والا وائرس ماتا کے وائرس،چکن پوک(Chicken Pox) اور گوٹ پوکس (Goat Pox)کی فیملی سے تعلق رکھتا ہے،لمپی اسکن بیماری میں تقریبا گائے اور بھینسیں متاثر ہوتی ہیں.۔تاہم، بیماری کے نتیجے میں جانوروں کی فلاح و بہبودو کے مسائل اور #پیداوار میں نمایاں نقصان ہوتا دیکھا گیا ہے۔ یہ بیماری بنیادی طور پر #کیڑوں(Insects) کے کاٹنے سے جیسے کہ مکھیوں، مچھروں اور ممکنہ طور پر چیچڑوں (Ticks) کی و جہ پھیلتی ہے۔کم عام طور پر، وائرس جلد کے زخموں، #لعاب دہن(Lacrimation)، #ناک سے خارج ہونے والے مادہ(Nasal Discharge)، دودھ، یا متاثرہ جانوروں کے منی(Semen) سے براہ راست رابطے سے پھیل سکتا ہے۔گرمی کے گیلے موسم میں اس کے واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہیں، لیکن یہ سردیوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ یہ پانی کے راستے اور نچلی زمین پر سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔چونکہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے بنائی گئی۔ ایل ایس ڈی وائرس(L*D ) سے متاثرہ جانور عام طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ مکمل صحت یابی میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ثانوی بیکٹیریل انفیکشن (Secondary Bacterial infections)اکثر حالت کو بڑھاتا ہے جو بعدمیں کمزوری اور خارش کی وجہ سے بالآخر موت واقع ہوتی ہے
علامات(Sign and Symptoms):
جسم میں آنے والے کسی بھی نئے وائرس کی طرح یہ بخار کا باعث بنتا ہے، جلد پر گٹھے/ گانٹھیں (Nodules) بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ بخار کی وجہ سے جانور خوراک چھوڑ دیتا ہے۔ #لکرمیشن، ناک سےمواد کا اخراج، اور تھوک کا بہت زیادہ پیدا ہونا( ہائپر سلائیویشن) ، جس کے بعد پچاس فیصد حساس مویشیوں میں جلد اور جسم کے دیگر حصوں پر گلٹیاں نمودار ہو جاتی ہیں۔جانور کی جلد پرنمودار ہونیوالے نوڈیولز سخت اور پیلے رنگ کے ٹشوز پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ نوڈیولز گول ، تھوڑے سے ابھرے ہوے، سخت اور تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ یہ نوڈیولز جانور کے منہ ، نک اور تھوتھنی پر بھی پیدا ہو سکتے ہیں اس بیماری کا انکیوبیشن کا #دورانیہ 4-14 دن ہے۔ جانور کے نظام انہضام، نظام تنفس (Respiratory System) اور تولیدی اعضاء میں نوڈیولز پیدا ہو جاتے ہیں۔ ۔ معدہ کے رک جاتا ہے قوت مدافعت (Immunity)کمزور ہوجانے کی وجہ سے ثانوی جراثیمی انفیکشن اکثر حالت کو بڑھاتا ہے جو بعدمیں کمزوری اور خارش کی وجہ سے بالآخر موت واقع ہوتی ہے۔اس بیماری میں مبتلا جانوروں میں شرح اموات دو سےتیس فیصد تک ہو سکتی ہے۔تاہم، بیماری کے نتیجے میں جانوروں کی فلاح و بہبودو کے مسائل اور پیداوار (Production) میں نمایاں نقصان ہوتا دیکھا گیا ہے۔ جانور کے دودھ کی پیداوار میں نمایاں کمی اور جانور کے کمزور ہونیکی وجہ سے اس کی قیمت بہت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ڈیر ی فارمر کو بہت زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
علاج:
کسی قریبی #مستند ویٹرنری ڈاکٹرسے تشخیص اور #علاج کرواے۔ نسخے اور ٹوٹکوں سے اس وقت پرہیز کریں، کسی کے سنے سناے نسخے اپنے جانوروں پر شروع نہ کر دیا کریں۔ان دنوں میں نیم حکیم, عطائیوں اور #جعلی ڈاکٹروں کا بھی سیزن ہوتا ہے, بلاوجہ انکی جیب بھاری اور اپنی جیب ہلکی نہ کروائیں۔
حفاظتی اقدامات:
#ویکسین لمپی وکے (Lumpyvec)درآمد شدہ فرم ترکی سے کسی حد تک بچاو ممکن ہوا ہے لیکن باڑے میں اگر کوئی جانور اس کی لپیٹ میں آگیا ہے تو پھر ویکسین نہیں ہو سکتی ،بلکہ قرنطینہ اور حفاظتی اقدامات کرنے چاہیئے۔بچاو کے لئے مکھی ، مچھر اور چیچڑوں کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ جانور پال حضرات اپنے باڑوں میں روزانہ کی بنیاد پر سپرے کریں۔ سپرے کے لئے #سائیپرمیتھرین اور ڈیزل کا مکس محلول بنا کر جانوروں کے بیٹھنے اور باندھنے والی جگہوں اور ارد گرد کی جگہوں پر کیا جائے۔گوبر کو باڑے سے دور لے جا دفن کیا جائے تو سب سے بہتر ہے اگر ایسا ممکن نہ ہو تو گوبر کے ڈھیروں پر بھی سپرے کر دیا جائے۔ اس وقت ملک میں ساون / #برسات کا موسم شروع ہو چکا ہے اور اس موسم میں مکھی اور مچھر بہت تیزی سے افزائش پاتے ہیں۔ پانی کے جوھڑ نہ بننے دیئے جائیں اور سائیپرمیتھرین کا سپرے باقاعدگی سے کیا جائ
پوسٹ مارٹم تبدیلیاں(Post Mortem changes):
زیادہ ترنوڈیولزجلد کے نیچے ٹشوز ، پٹھوں اور فاشیا کے پٹھوں میں پائے جاتے ہیں۔ #نوڈولس نیکروٹک کور(Necrotic core) کے ساتھ سرمئی گلابی رنگ کے ہوتےہیں۔یہ نوڈیولزناک کےاندروالےحصوں،سانس کی نالی، اوجھری،پھیپھڑوں،گردےکےکرٹکسں،خصیے(Testicles) اوربچےدانی میں واضعےدیکھےجاسکتےہیں
افواہیں:
لمپی اسکن بیماری Zoonotic disease (یعنی ایسی بیماری جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکے )نہیں ہیں ۔یہ صرف مویشیوں کو ہی متاثر کرتی ہے لہذا انسانوں پر ان کے علاماتِ نہیں ظاہر ہوں گے،براء کرم ایسی جھوٹی خبریں اور تبصروں سے باز رہیں اور لوگوں کو سمجھائیں اور پیغام پہنچائیں کہ یہ علامت انسانوں کو متاثر نہیں کرتی۔
سوشل میڈیا پر ایسی جھوٹی خبریں پھیلانے سے ایک تو سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ جو دودھ اور گوشت کا کاروبار کرتے ہیں ان کے روزگار پر بہت بڑا اثر ہوگا دوسرا ہم خود ایسی افواہوں پر اعتبار کرکے دودھ اور گوشت کھانے سے گریز کریں گے جس کی وجہ سے ہمیں بھی بہت نقصان ہوگا کیونکہ گوشت کو چھوڑ کر دودھ تو ہماری روزانہ کی زندگی کی اہم ضروریات میں سے ایک ہے لہذا سوشل میڈیا پر چلنے والی ایسی بے بنیاد باتوں پر یقین مت رکھیں
مزیدکسی سوال, #مشورےاورمعلومات کےلیےھم سےرابط بھی کیاجاسکتاہی
*D
Hafiz Veterinary Clinic
03021000689