Dr. Mubashir Gulzar

Dr. Mubashir Gulzar Spreading Animal Love & Care

16/07/2026

Veterinarian life during Clinic work



Embryo Transfer in Equines
16/07/2026

Embryo Transfer in Equines

16/07/2026

تیرہ چودہ سال کا لڑکا تھا۔ سوشل میڈیا پہ کسی سے دوستی ہو گئی۔
نئی نئی جوانی آ رہی تھی، جذبات کا ابھار تھا۔ تعلق کی ضرورت تھی۔ نفع نقصان کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ دوستی کا تعلق بڑھتا چلا گیا۔

دوستی سے بات محبت کی طرف آنے لگی اور کچھ وقت بعد ہی یہ تعلق باقی ہر شے سے بڑھ کر پیارا لگنے لگا کیونکہ اس سے جذباتی تسکین مل رہی تھی۔ جو محرومی یا تعلق کی کمی دل میں تھی، وہ دور ہو رہی تھی۔

دوسری طرف سے تصایر بھیجی جاتیں اور اس لڑکے سے بھی تصاویر کا مطالبہ کیا جاتا۔ یہ بھی سیلفیاں بنا بنا کر بھیجتا۔ پھر ایک روز دوسری طرف سے نیم برہنہ سی تصویر بھیجی گئی۔ لڑکے کے تن بدن میں جذبات آگ کی طرح بھڑکنے لگے۔ بچہ ہی تو تھا، غلط صحیح کے بجائے جذبات کے تابع چل رہا تھا۔

دوسری طرف سے اس سے بھی نیم برہنہ تصویر کا مطالبہ کیا گیا۔ اس نے فوراً اپنی بھی ویسی ہی تصاویر بھیج دیں۔ اب دوسری طرف سے مکمل برہنہ تصویریں بھیجی گئیں اور اس سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ اب ہم میں کیا پردہ ہے بھلا، مجھے بھی ایسی تصویریں بھیجو۔

جب جذبات لو دینے لگیں تو سمجھ ہو بھی تو کام نہیں کرتی۔ اس لڑکے نے اپنی بھی برہنہ تصاویر بھیج دیں۔ اگلے کئی روز یہی سب چلتا رہا، اسے کوئی تصویر بھیجی جاتی کبھی بدن کے کسی حصے کی اور کبھی کسی حصے کی اور پھر اس سے بھی مزید سے مزید کا مطالبہ کیا جاتا۔ یہ لڑکا درجنوں کے حساب سے اپنی ہر طرح کی تصاویر اور ویڈیوز بھیج چکا تو ایک دن اچانک ہی وہ پروفائل ویران ہو گیا۔ وہاں سے دوسری طرف والے سب میسجز ڈیلیٹ کر کے اس لڑکے کو بلاک کر دیا گیا تھا۔

لڑکا بیچارہ جذباتی طور پہ شدت سے انوالو ہو چکا تھا، اسے بڑا جھٹکا لگا اور شدید دکھ ہوا۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ کچھ دن بعد اس سے رابطہ کیا گیا کہ تمھاری ساری برہنہ تصاویر اور ویڈیوز ہمارے پاس موجود ہیں۔ تمھارے سارے تعلقات والوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا لنک ہمارے پاس موجود ہے، اگر سلامتی چاہتے ہو تو کل تک اس اکاؤنٹ میں اتنے پیسے بھیجو ورنہ ہم یہ ساری تصاویر تمھارے سب عزیزوں کو بھیج دیں گے اور پھر نامناسب ویب سائٹس پہ بیچ دیں گے۔

اس بیچارے کی ہوائیاں اڑ گئیں۔ ثبوت کے طور پہ اسے کچھ تصویریں واپس بھی بھیجی گئیں کہ یہ دیکھ لو ہمارے پاس سب موجود ہے۔ شریف لڑکا تھا، جذبات کی رو میں بہہ گیا تھا۔ اپنی اور اپنے والدین کی بدنامی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ نہ اس کے اندر اتنی ہمت تھی کہ ایسی تصویریں سامنے آنے پہ کسی سے نظریں ملا سکتا۔ اس نے اپنے باپ سے پیسے مانگے، ماں سے مانگے، چاچو سے مانگے، دوستوں سے ادھار لیے اور اگلے دن بتائے گئے اکاؤنٹ میں بھیج کر تصویریں ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

بیچارے کو پتا نہیں تھا کہ بلیک میلنگ کی ابتدا ہو جائے تو یہ دیمک کی طرح بدن چاٹتی ہی جاتی ہے، رکنے کا نام نہیں لیتی۔ تصویریں کہاں ڈیلیٹ ہونی تھیں، کچھ دن بعد مزید بڑی رقم کا مطالبہ کر دیا گیا۔ اس کی منتیں ترلے، واسطے، کچھ کام نہ آئے اور اسے تین دن کا وقت دیا گیا۔ اس کے سامنے مکمل اندھیرا چھایا ہوا تھا، کچھ سمجھ نہیں لگ رہی تھی کہ اب کیا کرنا ہے۔ اس نے اپنی زندگی کی پہلی چوری کی۔ اپنی ماں کے زیور چرائے۔ اپنے ایک دوست کی مدد سے بیچے اور پیسے بلیک میلنگ کرنے والوں کو بھیج دیے، اس وعدے کے ساتھ کہ اب وہ ساری تصویریں ڈیلیٹ کر دیں گے اور دوبارہ تنگ نہیں کریں گے۔

تقریباً بیس دن سکون سے گزرے، گھر میں زیور چوری ہونے کا جو کہرام مچا وہ الگ تھا لیکن بلیک میلنگ کرنے والوں کی طرف سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ لڑکا گھر کے شور شرابے اور اپنی چوری سے تو پریشان تھا لیکن بلیک میلنگ والوں کی خاموشی سے اسے سکون مل رہا تھا کہ جان بچ گئی۔ لیکن یہ بلیک میلنگ والے کام شروع ہو جائیں تو کہاں ختم ہوتے ہیں۔

بیس دن بعد پھر اس سے رابطہ کیا گیا اور اس دفعہ پھر اس سے ایک بڑی رقم مانگی گئی۔ تین دن کا وقت دیا گیا۔ وہ بیچارہ منتیں کرتا رہا ، ترلے کرتا رہا کہ میں اور پیسے نہیں دے سکتا ، پہلے بھی چوری کر کے دیے تھے لیکن بلیک میلنگ کرنے والے بضد رہے کہ پیسے دو ورنہ نتائج بھگتو۔ تین دن گزر گئے، اسے آخری دھمکی دی گئی کہ وقت ختم ہونے والا ہے۔ لیکن اس لڑکے کو سمجھ آ گئی تھی کہ یہ معاملہ اب ختم نہیں ہو سکتا، اس کے پاس کوئی حل نہیں بچا تھا۔ اس نے آخری میسج اپنے والد کو کیا تھا کہ آپ سے کسی نے میرے بارے میں کوئی رابطہ تو نہیں کیا؟

پھر شائد ہمت جواب دے گئی تو جواب کا انتظار کیے بغیر اپنے آپ کو کمرے میں بند کیا اور اپنی جان لے لی۔

—————————

یہ کچھ جزئیات کی تبدیلی کے ساتھ ایک سچا واقعہ ہے اور آپ کو شائد اندازہ بھی نہ ہو کہ آپ کے اردگرد ایسے بلیک میلنگ کے واقعات کتنے تواتر سے ، خاموشی کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ کتنی لڑکیاں بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے اپنی عزت قربان کر رہی ہیں، کتنے لڑکے اپنا سب کچھ لٹانے کے لیے تیار ہیں اور وجہ بس اتنی ہے کہ کچھ نازک لمحات میں وہ فریب کھا گئے، اپنی ایسی تصاویر کسی کو آنلائن بھیج دیں جو بھیجنے والی نہیں تھیں اور پھر بلیک میلنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

آپ نوجوان ہیں تو ایک بات کا عزم کر لیں، چاہے کچھ بھی ہو جائے کبھی کسی کو اپنی کوئی نامناسب تصویر نہیں بھیجنی۔ کبھی کسی کے ساتھ ایسی کوئی ویڈیو شئیر نہیں کرنی۔ چاہے کوئی کتنا بھی آپ سے محبت کا اظہار کرے، چاہے کوئی کتنا بھی آپ کو پیارا لگ رہا ہو، اس کے ساتھ ایسا کوئی مواد شئیر نہیں کرنا۔ یہاں اتنے بلیک میلنگ والے گروہ یہ کام کر رہے ہیں کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان میں لڑکے لڑکیاں، سب شامل ہیں جو آپ کو محبت کا فریب دینے کے لیے ہر طرح کا ڈائیلاگ ماریں گے۔

اگر آپ بڑی عمر کے ہیں تو یہ بات یقینی بنائیں کہ اپنے بچوں کو واضح طور پہ یہ بات کہیں کہ کبھی کسی کو اپنی کوئی نامناسب تصویر نہیں بھیجنی۔ ڈھکے چھپے الفاظ میں نہیں، انھیں پاس بٹھا کر مگلحبت کے ساتھ صاف الفاظ میں کہیں کہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے بہت لوگوں سے ان کا تعلق بنے گا۔ بہت سے لوگ قریبی، پیارے اور عزیز لگیں گے لیکن کچھ بھی ہو جائے کبھی اپنی کوئی نامناسب تصویر یا ویڈیو نہیں بنانی، ان میں سے کسی کو نہیں بھیجنی۔

یہ نفسیاتی الجھنیں ہیں کہ ایسا وقت آتا ہے جب نوجوانوں کو recognition چاہیے ہوتی ہے، وہ چاہتے ہیں دوسرے انھیں دیکھیں اور محسوس کریں۔ اس لیے وہ ہر طرح کا مواد بنا کر بانٹنے پہ تیار ہو جاتے ہیں۔ انھیں پہلے سے یہ بات صاف بتائیں، سمجھائیں کہ کبھی ان پہ ایسا موقع ، ایسی سوچ آ سکتی ہے۔ اس میں ہر صورت اپنی حدود کا خیال رکھنا ہے۔ آپ کے بچے جتنے بھی شریف ہوں، عام انسان ہی ہیں، ان کے اندر پلتے ہارمونز ، ان کے اندر پروان چڑھتے جذبات ان سے غلطی کروا سکتے ہیں، اس لیے انھیں پہلے سے بتائیں کہ ایسا ہو سکتا ہے اور انھوں نے اس پہ قابو پانا ہے۔

احترام کا رشتہ اپنی جگہ لیکن اپنے بچوں کو غلط صحیح نہیں سمجھائیں گے تو بعد میں ساری عمر پچھتاتے رہیں گے، اس لیے آج اپنے بچوں کی ذمہ داری لے کر انھیں شعور دیں، سمجھ دیں۔

اور اگر کوئی خدانخواستہ ایسی کسی مشکل کا شکار ہو گیا ہے تو خدارا بلیک میلنگ کرنے والوں کی فرمائش پوری نہ کریں، ورنہ یہ ایسا چکر ہے جو کبھی ختم ہی نہیں ہو گا۔ آپ اس میں پھنسے ہی رہیں گے اور وہ آپ کا ہر طرح سے استحصال کرتے رہیں گے۔

سب سے بہتر حل یہ ہے کہ خدانخواستہ ایسا کچھ ہو جائے تو اپنے گھر میں سے کسی ایک فرد کو ساری صورت حال بتا دیں۔ چاہے جتنی بھی شرمندگی ہو، اس سے بہتر کوئی حل نہیں۔ آپ کے گھر والوں سے زیادہ سگا کوئی نہیں ہو سکتا آپ کے لیے۔ اگر گھر میں کوئی ایسا نہیں تو کسی قریبی عزیز کو جو قابل اعتماد ہو، سمجھدار ہو ، اسے رازداری سے یہ بتا دیں۔ اگر پھر بھی کوئی نہیں ملتا تو مجھے میسج کر کے بتا دیجیے، میں آپ کو کوئی مناسب مشورہ دے دوں گا لیکن بلیک میلنگ کا شکار نہ ہوں، اپنا نقصان نہ کریں۔

اس بلیک میلنگ سے بچنے کے بہت رستے ہیں، ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک دوست کے جاننے والوں میں ایک بچی ایسی بلیک میلنگ کا شکار ہو رہی تھی تو اسے بلیک میل کرنے والوں کو قانونی اداروں کی مدد سے پکڑ کر سزا دلوائی گئی ہے۔ اور وہ بلیک میلنگ کرنے والے اٹھارہ بیس سال کے نوجوان تھے، کوئی بڑی عمر کے گھاگ انسان بھی نہیں۔ اس لیے خدانخواستہ مشکل میں پھنس جائیں تو مزید بربادی کا رستہ مت اختیار کریں، مدد لیں۔ اللہ رستے بنائے گا، پریشانی سے نکالے گا۔ بس کوشش آپ کو خود کرنی ہو گی۔

Copied from
۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوید خالد تارڑ ۔۔۔۔۔

📍Hypocalcemia (Milk Fever): the postpartum emergency you can’t ignoreAt calving, calcium demand spikes fast. If the cow ...
28/02/2026

📍Hypocalcemia (Milk Fever): the postpartum emergency you can’t ignore

At calving, calcium demand spikes fast. If the cow can’t mobilize calcium quickly enough, blood Ca falls → neuromuscular failure, gut stasis, recumbency, bloat risk, and death if untreated.

What you’ll see (field staging)

Stage I: tremors, twitching, “nervous” cow
Stage II: sternal recumbency, cold ears/feet, “S-bend” neck
Stage III: lateral recumbency, coma, severe bloat risk

Treat NOW (clinical milk fever)

✅ Slow IV 40% calcium borogluconate (~400 mL ≈ 12 g Ca)
⚠️ Give slowly + monitor the heart (rapid IV calcium can cause fatal arrhythmias).

Relapse can happen—plan follow-up support and reassess non-responders.
Prevention > treatment

If you’re seeing repeat cases, your transition system needs work:
Close-up mineral strategy (DCAD), adequate Mg, and correct cow condition.

If you haven’t had a clinical milk fever case in 2+ years, your transition program is likely working.

05/01/2026

Address

ZWL\S-7#3NA/46
Lahore
51670/7SR

Telephone

+923233064105

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Mubashir Gulzar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr. Mubashir Gulzar:

Shortcuts

Share