27/08/2026
*ان بے زبانوں کے لیے بولنا جرم نہیں، انسانیت ہے*
کتوں کے جبڑے توڑ دیے جاتے ہیں۔
بلیوں کو گاڑیوں کے نیچے کچل دیا جاتا ہے۔
گرمی میں ان کے لیے رکھے ہوئے پانی کے برتن توڑ کر پھینک دیے جاتے ہیں۔
کتوں کو مارا جاتا ہے۔ بلیوں کو مارا جاتا ہے۔
اور جب ہم انسانیت کے ناطے ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں...
تو ہمیں گالیاں دی جاتی ہیں۔
ہمیں ذلیل کیا جاتا ہے۔
ہمیں کرائے کے گھروں سے نکال دیا جاتا ہے۔
لیکن الحمدللہ!
میں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور قانونی ایکشن لیا۔
اور آج فخر سے کہہ رہی ہوں کہ *سندھ پولیس، ہماری عدالتیں، اور پاکستان کا قانون* میرے ساتھ کھڑے ہوئے۔
اتنی سپورٹ ملی کہ آنکھیں نم ہو گئیں۔
دل سے شکریہ *جبران ناصر صاحب* کا، جنہوں نے ہمیشہ سچ، قانون اور انسانیت کے ساتھ کھڑا ہونا سکھایا۔
میں لاکھ لاکھ بار اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔
کیونکہ جب آپ حق پر ہوتے ہیں، جب آپ انسانیت کے لیے بات کرتے ہیں — چاہے وہ کسی انسان کے لیے ہو یا کسی بے زبان کے لیے — تو اللہ ضرور آپ کا ساتھ دیتا ہے۔
میں *سدف عارف* سب سے گزارش کرتی ہوں:
ظلم دیکھ کر خاموش نہ رہیں۔ آواز بنیں۔ یہ صرف جانوروں کا مسئلہ نہیں، یہ ہم سب کی انسانیت کا امتحان ہے۔
---