18/08/2026
زندگی میں مزہ تب اتا ہے جب نام باپ کا ہو اور پیسہ اپ کا ہو۔بجائے اس کے کہ لوگ کہیں کہ امیر باپ کا بگڑا ہوا لونڈاہے لوگ تمہارے بارے میں کہے کہ غریب باپ کا سلجھا ہوا بیٹا ہے۔میں اپنے کام کو اپنے والد کے کے نام کے ساتھ منسوب کرنا پسند کرتا ہوں۔میرے ڈاکومنٹس میں میرا نام محمد حماد ہے اور میں جتنے پلیٹ فارم پر اپنی شناخت کراتا ہوں تو محمد حماد کے نام کے ساتھ کرتا ہوں لیکن جب سے پریکٹیکل یہ جو ویٹرنری کا فیلڈ ہے اس میں میں نے کام کرنا شروع کیا ہے تو میں نے اپنے نام کے ساتھ بشیر خان جو کہ میرے والد صاحب کا نام ہے وہ جوڑ کر رکھا ہوا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ میں ہے کہ ایف ایس سی کے بعد میں نے بی ایس میں ایڈمیشن کیا تھا جو کہ دو سال میں پڑھ چکا تھا پھر ڈی ایم میں مجھے داخلے کا موقع مل گیا جو کہ میری دلی چاہت نہیں تھی کہ میں ڈی وی ایم کر لوں والد صاحب نے بہت کہا کہ ڈی وی ایم کر لو میں نے بہت بار منع کیا ضد کی کہ میں نہیں کرنا چاہتا۔بہت سے دوستوں نے بھی کہا کہ ڈی وی ایم کر لو رشتہ داروں نے بھی کہا۔ان سب کے کہنے پر میں پھر بھی نہ مانا میرا جی نہیں ہوا۔صرف ایک چیز جس نے مجھے ڈی وی ایم کے لیے راضی کر لیا وہ یہ تھی کہ میرے والد صاحب نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میرا ایک بیٹا ڈاکٹر بن جائے کیونکہ ہم تو وی ار ائی میں رہتے تھے تو وہاںزیادہ تر ڈاکٹر ہوا کرتے تھے میرے والد صاحب چونکہ ایک سرکاری ملازم تھے کلاس فور تھے تو تو بڑے افسروں کو دیکھ کر ان کے دل میں یہ بات اتی تھی کہ شاید میرا بیٹا بھی ہے افسر بن جائے ڈاکٹر بن جائے جو کہ عموما ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے۔تو مجھے ابھی بھی یاد ہے اس بات نے میرے دل پر نقش کر لیا تھا اور اس بات نے مجھے ڈی وی ایم کرنے پر مجبور کیا۔تو چونکہ والدین کے ماننے میں خیر ہوتی ہے میں اس لیے اس بات کو ٹھکرا رہا تھا کہ کچھ دوست سے ایسے بنے ہوئے تھے جس کی جدائی مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی دوسرا ہمارے معاشرے کی باتیں بندے کے ذہنی سکون کو برباد کر دیتی ہیں جو کہتے ہیں کہ دو سال ضائع کیے فلاں فلاں فلاں۔۔ان سب کو چھوڑ کر والد کی خواہش کو سامنے رکھا الحمدللہ اللہ نے بہت عزت دی۔تو میری فیلڈ کی جتنی بھی پہچان ہے اس میں نے اپنے والد کا نام اپنے ساتھ لکھ لیا میرے جان پہچان والے لوگوں کو پتہ بھی ہوگا کہ میں نے پہلے ایسا نام اپنا نہیں رکھا یہ اس اس وجہ سے کہ میں اپنے والد کی جو قربانیاں جو اس نے میرے خاطر دی ہے اس کی قیمت تو کوئی ادا نہیں کر سکتا لیکن کم از کم ہزاروں لاکھوں لوگ میری ویڈیوز دیکھتے ہیں اگر وہ میرا نام لیتے ہیں تو ساتھ ہی میرے والد کا نام بھی لیتے ہیں جو میرے لیے ایک فخر کی بات ہے۔اور انشاءاللہ اس نام کو میں اسمان کے تاروں کی طرح بلند رکھوں گا۔اکثر فارمرز میرے ساتھ جب رابطہ کرتے ہیں تو وہ مجھے حماد بشیر یا بشیر بھائی کے نام سے مدعو کرتے ہیں۔تو اپنے والد کی نسبت کو دیکھ کر سینہ فخر سے چھوڑا ہو جاتا ہے۔۔
Hamad Khan