Islamic page

Call Contact the business

Islamic page this is islamic page

30/09/2026

Nokia 3310 mobile phone white display problem repairing solution

یہ صاحب مرکز کی کارگزاری ہے۔
30/09/2026

یہ صاحب مرکز کی کارگزاری ہے۔

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف نے اپنے قبولِ اسلام کے سفر سے متعلق ایک بیان میں بتایا کہ جب وہ پاکستان کرکٹ ٹیم می...
29/09/2026

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف نے اپنے قبولِ اسلام کے سفر سے متعلق ایک بیان میں بتایا کہ جب وہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں آئے تو مذہبی معاملات کی طرف ان کا زیادہ رجحان نہیں تھا۔

ان کے مطابق تبلیغی جماعت سے وابستہ سعید بھائی کی صحبت اور رہنمائی سے انہیں اسلام کے بارے میں جاننے کا موقع ملا اور بعد ازاں انہوں نے اسلام قبول کیا۔ محمد یوسف نے بتایا کہ وہ اسلام کو مزید سمجھنے کے لیے رائیونڈ میں مولوی فہیم صاحب سے بھی ملاقات کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے تقریباً تین سال تک اپنے قبولِ اسلام کے بارے میں خاموشی اختیار کیے رکھی، بعد میں جب اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کو بتایا تو انہیں مختلف مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔

محمد یوسف کے مطابق بعد ازاں انہیں عمرہ کی سعادت بھی حاصل ہوئی اور پھر انہوں نے عوامی طور پر بتایا کہ وہ تین سال قبل اسلام قبول کر چکے تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اسلام اپنی مرضی سے قبول کیا اور ان پر کسی قسم کی زبردستی نہیں کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے قبولِ اسلام کے فیصلے کی وجہ انضمام الحق نہیں تھے۔

آج کا جان دار اسلامی سوال
29/09/2026

آج کا جان دار اسلامی سوال

28/09/2026

Indeed, this blessing is from Allah Ta'alaIndeed, this blessing is from Allah Ta'ala بیشک یہ سب نعمت اللہ تعالیٰ کے طرف سے ہے

I love Madina ❣️❣️❣️
28/09/2026

I love Madina ❣️❣️❣️

24/09/2026

Masha Allah very good place

رومی سلطنت کے عظیم فرمانروا ہرقل کے دربار میں ایک دن ایک ایسا پیغام پہنچا جس نے شاہی ایوان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔یہ ...
24/09/2026

رومی سلطنت کے عظیم فرمانروا ہرقل کے دربار میں ایک دن ایک ایسا پیغام پہنچا جس نے شاہی ایوان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔

یہ پیغام کسی بادشاہ یا فاتح کی طرف سے نہیں تھا، بلکہ رسول اللہ محمد ﷺ کی طرف سے قیصرِ روم کے نام ایک دعوتی خط تھا۔

یہ خط حضرت دِحیہ کلبیؓ لے کر گئے تھے۔ روایاتِ صحیحہ کے مطابق حضرت دِحیہؓ نے یہ خط بُصرٰی کے حاکم تک پہنچایا، جس نے اسے ہرقل تک پہنچایا۔

ہرقل نے خط پڑھا اور اس معاملے کو معمولی نہ سمجھا۔ اس نے قریش کے ان لوگوں کو بلانے کا حکم دیا جو اس دعوت کے پیشوا محمد ﷺ کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے تھے۔

اتفاق سے ابو سفیان اور قریش کے کچھ تاجر اس وقت شام میں موجود تھے۔ انہیں ہرقل کے سامنے پیش کیا گیا۔ ہرقل نے ابو سفیان کو اپنے قریب بلایا اور مترجم کے ذریعے سوالات شروع کیے۔

اس نے پوچھا:

محمد ﷺ کا خاندان کیسا ہے؟

کیا ان کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟

کیا ان کے پیروکار بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟

ان کے پیروکار زیادہ تر معاشرے کے بااثر لوگ ہیں یا کمزور اور عام لوگ؟

کیا انہوں نے نبوت کے دعوے سے پہلے کبھی جھوٹ بولا تھا؟

کیا وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں؟

کیا ان کے پیروکار دین اختیار کرنے کے بعد اسے چھوڑ دیتے ہیں؟

ابو سفیان نے ان سوالات کے جوابات دیے۔ اس نے بتایا کہ محمد ﷺ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے پیروکار بڑھ رہے ہیں، ان کے بہت سے پیروکار کمزور طبقے سے ہیں، اور وہ پہلے کبھی جھوٹ بولنے کے لیے معروف نہیں تھے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتے۔

ہرقل نے ان جوابات کو غور سے سنا۔ پھر اس نے محمد ﷺ کی دعوت کے بارے میں مزید پوچھا اور بتایا کہ اگر یہ باتیں درست ہیں تو وہ نبی کی علامات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ صحیح بخاری کی روایت میں اس کے بعد ہرقل کے خط پڑھنے اور اپنی قوم کے سامنے اس معاملے پر گفتگو کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔

یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ اسلام کا پیغام عرب کے باہر ایک بڑی عالمی سلطنت کے حکمران تک پہنچ چکا تھا۔

حضرت دِحیہؓ کا یہ سفر صرف ایک خط پہنچانے کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ کے ان واقعات میں سے ہے جو بتاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت کو عرب کے قبائل تک محدود نہیں رکھا۔

ایک طرف مدینہ سے آنے والا ایک مسلمان سفیر تھا، دوسری طرف روم کا عظیم فرمانروا، اور درمیان میں رسول اللہ ﷺ کا دعوتی خط۔

یہ منظر اسلامی تاریخ کے ان یادگار واقعات میں شمار ہوتا ہے جن میں ایک پیغام نے سلطنت کی سرحدوں سے آگے سفر کیا۔

مزید اس طرح کے سبق آموز اور دلچسپ واقعات کے لئے ہمارا فیس بک پیج Moral Lessons سبق آموز کہانیاں کریں

پیارے آقا ﷺ کی اونٹنی کے گم ہونے پر منافق کا طنز... اور الله تعالیٰ کی مدد کا فوراً آ جانا غزوۂ تبوک اسلامی تاریخ کا وہ ...
23/09/2026

پیارے آقا ﷺ کی اونٹنی کے گم ہونے پر منافق کا طنز... اور الله تعالیٰ کی مدد کا فوراً آ جانا

غزوۂ تبوک اسلامی تاریخ کا وہ عظیم سفر تھا جس میں صحابۂ کرامؓ نے طویل مسافت، صحرا کی شدید گرمی، اور بھوک و پیاس کے باوجود پیارے آقا ﷺ کا ساتھ دیا۔ یہ ایسا سفر تھا جس میں ایمان والوں کے ایمان نمایاں ہوئے اور منافقین کے دلوں میں چھپی منافقت بھی سامنے آئی۔
غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے۔
راستے میں الله کے پیارے نبی ﷺ کی اونٹنی گم ہوگئی۔ صحابۂ کرامؓ اسے تلاش کرنے کے لیے نکل پڑے۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمارہ بن حزمؓ، پیارے آقا ﷺ کے قریب موجود تھے۔ حضرت عمارہؓ کوئی معمولی صحابی نہ تھے، وہ بیعتِ عقبہ میں شریک ہونے اور غزوۂ بدر میں شرکت کا شرف رکھنے والے جلیل القدر صحابی تھے۔
لیکن ان کے قیام کے مقام پر ایک ایسا شخص بھی موجود تھا جو زبان سے تو کلمہ پڑھتا تھا، لیکن اس کے دل میں ایمان نہیں بلکہ نفاق چھپا ہوا تھا۔
اس کا نام زید بن لصیت قینقاعی تھا۔
جب حضرت عمارہؓ وہاں موجود نہ تھے تو اس منافق شخص نے طنزیہ انداز میں کہا: "کیا محمد ﷺ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ نبی ہیں اور انہیں آسمان کی خبریں دی جاتی ہیں؟ پھر انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے!"
یہ جملہ بظاہر ایک معمولی طنز تھا، مگر درحقیقت یہ پیارے آقا ﷺ کی نبوت پر اعتراض تھا۔ لیکن اس منافق انسان کی زبان سے نکلے ہوئے یہ جملے خود اسی کے خلاف گواہی بن گئے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے یہ بات کہی ہے کہ محمد ﷺ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں، آسمان کی خبریں بتاتے ہیں مگر انہیں اپنی اونٹنی کا بھی پتا نہیں۔
پھر آپ ﷺ نے وہ تاریخی الفاظ فرمائے: "میں تو وہی جانتا ہوں جو اللہ مجھے بتاتا ہے۔"
اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹنی کے بارے میں بتا دیا ہے۔
آپ ﷺ نے اس کی جگہ کی نشاندہی فرمائی کہ اونٹنی فلاں وادی کی ایک گھاٹی میں ہے، ایک درخت کے ساتھ اس کی نکیل پھنس گئی ہے۔
صحابۂ کرامؓ اس وادی کی طرف گئے۔ اونٹنی وہیں موجود تھی۔ اس کی نکیل واقعی ایک درخت کے ساتھ پھنسی ہوئی تھی۔

حضرت عمارہ بن حزمؓ واپس اپنی قیام گاہ پر پہنچے تو انہوں نے وہاں موجود لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابھی انہیں ایک شخص کی کہی ہوئی بات کے بارے میں بتایا ہے۔
وہاں موجود ایک شخص نے کہا: "اللہ کی قسم! یہ بات تو زید بن لصیت نے ابھی کچھ دیر پہلے کہی تھی۔"
یہ سنتے ہی حضرت عمارہؓ کو حقیقت معلوم ہوگئی۔ جس شخص کو وہ اپنے ساتھ رکھے ہوئے تھے، وہی اللہ کے آخری اور سچے نبی ﷺ کے بارے میں گستاخانہ باتیں کر رہا تھا۔
حضرت عمارہؓ نے زید بن لصیت کو پکڑ لیا اور اسے اپنے قیام گاہ سے نکال دیا اور فرمایا: "اے اللہ کے دشمن! میرے خیمے سے نکل جا، میرے ساتھ سفر نہ کرنا اور میرے قریب بھی نہ آنا!

غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران پیش انے والا یہ واقعہ صرف ایک گم شدہ اونٹنی کے مل جانے کا واقعہ نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اللہ اپنے پیارے محبوب ﷺ کی عزت کی حفاظت کس طرح فرماتا تھا۔ منافق زید بن لصیت نے سمجھا کہ اس نے ایک ایسا سوال اٹھایا ہے جس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ مگر اسے کیا معلوم تھا کہ جس ہستی کے بارے میں وہ طنز کر رہا ہے، وہ اپنی ذات سے غیب کا علم رکھنے کا دعویٰ نہیں کرتی، بلکہ صاف اعلان کرتی ہے: "میں وہی جانتا ہوں جو اللہ مجھے سکھاتا ہے۔"
اور پھر اللہ تعالیٰ نے اسی لمحے اپنے نبی ﷺ کو وہ خبر عطا فرمائی جسے سن کر صحابۂ کرامؓ نے اپنی آنکھوں سے اس کی تصدیق کرلی۔ یہی نبوت کا فرق ہے۔
نبی ﷺ اپنی طرف سے غیب کا علم رکھنے کا دعویٰ نہیں کرتے؛ اللہ جس قدر چاہتا ہے اپنے نبی کو غیب کی خبریں عطا فرماتا ہے۔

قرآنِ کریم بھی اسی اصول کو بیان کرتا ہے: وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ

اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا: عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ۝ إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِنْ رَسُولٍ
یعنی اللہ تعالیٰ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے پسندیدہ رسول کو اپنے غیب میں سے جس قدر چاہتا ہے آگاہ فرماتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ منافق انسان جس بات کو رسول اللہ ﷺ کے خلاف دلیل طور پر پیش کر رہا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسی بات کو اپنے نبی ﷺ کی صداقت کی نشانی بنا دیتا ہے۔
اور شاید اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے:
نبوت کا دعویٰ اپنی طاقت پر نہیں، اللہ کی وحی اور تائید پر قائم ہوتا ہے۔
درود و سلام ہو اس عظیم ہستی پر جن کے بارے میں قرآن نے فرمایا:
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ۝ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ
اللّٰهم صلِّ وسلم وبارك على سيدنا محمد ﷺ۔

تقریباً پانچ سو سال پہلے، موجودہ پیرو کے پہاڑوں میں اِنکا سلطنت کے معمار ایک ایسا تعمیراتی منصوبہ مکمل کرنے میں مصروف تھ...
21/09/2026

تقریباً پانچ سو سال پہلے، موجودہ پیرو کے پہاڑوں میں اِنکا سلطنت کے معمار ایک ایسا تعمیراتی منصوبہ مکمل کرنے میں مصروف تھے جس کے آثار آج بھی دیکھنے والے کو حیران کر دیتے ہیں۔ اولانتائتامبو (Ollantaytambo) کی بلند پہاڑی پر موجود عظیم پتھروں کو دیکھ کر اصل حیرت صرف ان کے حجم پر نہیں ہوتی، بلکہ اس سوال پر ہوتی ہے کہ جدید کرینوں، ٹرکوں اور مشینوں کے بغیر انہیں کئی کلومیٹر دور سے یہاں تک پہنچایا کیسے گیا۔

اس مقام کی سب سے مشہور تعمیر چھ عظیم پتھروں کی دیوار (Wall of the Six Monoliths) ہے۔ یہ چھ دیوہیکل گلابی رنگ کے آتش فشانی پتھر کچی کھاتا (Kachiqhata) کی کانوں سے لائے گئے تھے، جو اولانتائتامبو سے وادی کے دوسری جانب تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھیں۔ بعض پتھروں کا وزن کئی درجن ٹن ہے، اور انہیں کان سے نکالنے کے بعد پہلے انتہائی دشوار پہاڑی راستے سے نیچے لانا، دریائے اوروبامبا (Urubamba) کے علاقے سے گزارنا اور پھر اولانتائتامبو کی کھڑی پہاڑی پر اوپر پہنچانا پڑتا تھا۔

آثارِ قدیمہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِنکا معماروں نے اس کام کے لیے باقاعدہ راستے اور ریمپ تیار کیے تھے۔ راستے کے مختلف حصوں میں آج بھی ایسے بڑے پتھر پڑے ملتے ہیں جو اپنی منزل تک کبھی نہیں پہنچ سکے۔ ماہرین انہیں کبھی کبھی ’’تھکے ہوئے پتھر‘‘ (Tired Stones) کہتے ہیں۔ یہ نام بڑا دلچسپ ہے، کیونکہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دیوہیکل پتھر سفر کرتے کرتے راستے ہی میں رک گئے ہوں، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک ادھورے رہ جانے والے عظیم تعمیراتی منصوبے کے نشانات ہیں۔

انہی میں ایک بہت بڑا پتھر دریائے اوروبامبا کے قریب موجود ہے، جس کا وزن تقریباً 50 ٹن بتایا جاتا ہے۔ یہ پتھر اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ صرف ایک چٹان نہیں، بلکہ کان سے تعمیراتی مقام تک پتھر پہنچانے کے پورے عمل کا ایک باقی رہ جانے والا ثبوت ہے۔ کان، پہاڑی راستہ، درمیان میں چھوڑے گئے پتھر اور آخر میں مندر کی پہاڑی پر نصب عظیم بلاکس کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو تقریباً پورا سفری راستہ سمجھ آنے لگتا ہے۔

اِنکا لوگوں کے پاس پہیے والی بھاری مال بردار گاڑیاں نہیں تھیں، نہ لوہے کی جدید مشینری اور نہ ہی جانوروں کی ایسی طاقت جو پچاس پچاس ٹن کے پتھر کھینچ سکے۔ اصل قوت انسانی محنت، رسیوں، تیار کردہ راستوں، ریمپوں، لیور جیسے سادہ آلات اور انتہائی منظم اجتماعی کام میں تھی۔ تجرباتی آثارِ قدیمہ اور اس مقام کے مطالعے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بڑے گروہ رسیاں استعمال کرکے پتھروں کو تیار شدہ سطحوں پر گھسیٹ سکتے تھے۔

اس کہانی کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کان میں صرف خام پتھر توڑ کر روانہ نہیں کر دیے جاتے تھے۔ بعض بلاکس پر ابتدائی تراش خراش وہیں کی جاتی، پھر انہیں سفر کے لیے تیار کیا جاتا۔ راستے کی منصوبہ بندی بھی معمولی کام نہیں تھی، کیونکہ ایک طرف بلند اینڈیز پہاڑ، دوسری طرف گہری وادی اور درمیان میں دریائے اوروبامبا تھا۔ اس کے باوجود کئی دیوہیکل پتھر کامیابی سے پہاڑی کی چوٹی تک پہنچائے گئے، جہاں آج بھی چھ عظیم مونولِتھ کھڑے ہیں۔

اولانتائتامبو کی تعمیر غالباً پندرھویں صدی میں اِنکا حکمران پاچاکوتی (Pachacuti) کے دور کے بڑے تعمیراتی منصوبوں سے وابستہ تھی۔ بعد میں ہسپانوی فتوحات اور اِنکا سلطنت میں آنے والی شدید سیاسی و عسکری تبدیلیوں کے باعث یہاں کا بڑا تعمیراتی کام ادھورا رہ گیا۔ اسی لیے راستے میں پڑے یہ دیوہیکل پتھر ہمارے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں؛ مکمل عمارت صرف یہ دکھاتی ہے کہ اِنکا کیا بنا سکتے تھے، لیکن راستے میں چھوڑے گئے پتھر یہ دکھاتے ہیں کہ وہ اسے بنا کیسے رہے تھے۔

آج تقریباً پانچ صدیاں گزرنے کے بعد بھی کچی کھاتا کی کان موجود ہے، پتھروں کے قدیم راستے کے آثار موجود ہیں، سفر کے درمیان چھوڑے گئے کئی بڑے بلاکس موجود ہیں اور پہاڑی کے اوپر وہ چھ عظیم پتھر بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔ یوں اولانتائتامبو صرف ایک قدیم عمارت نہیں بلکہ ایک ادھوری تعمیر کا ایسا مقام ہے جہاں پتھر کی کان سے لے کر آخری دیوار تک، اِنکا انجینئرنگ کے مختلف مراحل آج بھی زمین پر پڑھے جا سکتے ہیں۔

اور شاید اسی لیے راستے میں پڑا وہ تقریباً پچاس ٹن وزنی پتھر بھی اتنا قیمتی ہے۔ وہ اپنی منزل تک تو نہیں پہنچ سکا، لیکن پانچ سو سال بعد اِنکا لوگوں کی محنت، منصوبہ بندی اور حیرت انگیز تعمیراتی صلاحیت کی کہانی سنانے کے لیے وہیں رہ گیا۔

پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔

دعا کا طالب
اسلام اللہ

Address

Mardan
23200

Telephone

+923059589832

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic page posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Islamic page:

Shortcuts

Share

Category