21/06/2026
شام کا وقت تھا۔
ایک ویٹرنری ڈاکٹر کو فون آتا ہے۔
کسان کہتا ہے:
“ڈاکٹر صاحب، میری گائے ہیٹ میں(بول رہی) ہے، جلدی آ جائیں۔”
ڈاکٹر موٹر سائیکل پر سات کلومیٹر دور کچے راستوں سے ہوتا ہوا پہنچ جاتا ہے۔
اپنا وقت، اپنا پٹرول—صرف جانور کے لیے۔
ڈاکٹر گائے کو اچھی طرح چیک کرتا ہے،
نشانیوں کو دیکھتا ہے، مکمل معائنہ کرتا ہے۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر نرمی سے کہتا ہے:
“بھائی، جانور اس وقت صحیح ہیٹ میں نہیں ہے۔
ابھی ٹیکہ رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔”
کسان ہلکا سا مسکرا کر کہتا ہے:
“اچھا ڈاکٹر صاحب… شکریہ۔”
یہ کہہ کر وہ جانور کو باندھنے کے لیے گھر کے اندر چلا جاتا ہے۔
دروازہ بند۔
کسان واپس باہر نہیں آتا۔
نہ فیس،
نہ پٹرول کے پیسے۔
ڈاکٹر باہر کھڑا رہ جاتا ہے،
آنکھوں میں تھکن،
دل میں مایوسی۔
وہ آہستہ سے کہتا ہے:
“ہائے غربت…
تیڈی بھینڑ کوں…؟”
ڈاکٹر موٹر سائیکل اسٹارٹ کرتا ہے اور کہتا ہے:
“ہم جانور کا علاج تو کر دیتے ہیں،
مگر اپنی بے قدری کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔”
اور وہ خاموشی سے واپس چلا جاتا ہے۔یہ سوچتے ہوئے کہ 🫡اگلی بار اگر ہیٹ نہ بھی ہوئی تو ٹیکہ رکھنے کو