20/08/2026
حقائق سامنے رکھیں، خوف نہیں پھیلائیں
"نشاط گروپ کا ڈیری شعبے سے اخراج، پاکستان کی ڈیری صنعت کے لیے خطرے کی گھنٹی"
یہ عنوان بلاشبہ سنسنی خیز ہے، لیکن دستیاب مالیاتی اور کاروباری ریکارڈ کو دیکھا جائے تو اصل معاملہ اس سے کہیں مختلف ہے۔ ایک کاروباری فیصلے کو پورے پاکستانی ڈیری شعبے کی تباہی کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔
نشاط ملز لمیٹڈ نے 2019 میں ترکی کی کمپنی سوتاش کے ساتھ مل کر نشاط سوتاش ڈیری قائم کی۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران نشاط ملز نے اس منصوبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی اور اس سرمایہ کاری کی حد بھی کئی مرتبہ بڑھائی۔ جون 2025 تک اس منصوبے میں نشاط ملز کی تقریباً 3 ارب 93 کروڑ 70 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ریکارڈ پر موجود تھی۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ نومبر 2025 میں نشاط ملز کی جانب سے نشاط سوتاش ڈیری میں مزید 5 ارب روپے تک سرمایہ کاری کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا۔
لہٰذا آج یہ کہنا کہ “نشاط گروپ ڈیری کے موجودہ حالات سے گھبرا کر شعبہ چھوڑ کر بھاگ گیا” ایک ثابت شدہ حقیقت نہیں بلکہ ایک مفروضہ ہے۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ نشاط ملز لمیٹڈ اپنی نشاط سوتاش ڈیری میں موجود تقریباً 49 فیصد حصص اپنے ترک شراکت دار سوتاش کو منتقل کرنے کی تجویز رکھتی ہے۔
یہاں ایک انتہائی اہم حقیقت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے..
یقین رکھیں ترک کمپنی سوتاش پاکستان سے نہیں جا رہی.
نشاط سوتاش ڈیری دراصل نشاط گروپ اور ترکی کی سوتاش کے درمیان قائم ہونے والی شراکت داری کا نتیجہ ہے۔ اگر نشاط ملز اپنے حصص سوتاش کو منتقل کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ترکی کی یہ تجربہ کار ڈیری کمپنی پاکستان میں اپنی ملکیت اور کاروباری اختیار مزید بڑھا رہی ہے۔
اس لیے اس معاملے کو یہ رنگ دینا کہ “غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سے نکل رہے ہیں اور ڈیری صنعت ختم ہونے والی ہے” حقائق کے مطابق نہیں۔
بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ اگر سوتاش پاکستان سے مایوس ہوتی تو وہ نشاط ملز کے حصص خرید کر اپنی ملکیت بڑھانے میں دلچسپی کیوں رکھتی؟
نشاط سوتاش ڈیری اور نشاط ڈیری دو الگ کاروباری ادارے ہیں۔ ان دونوں کو ایک سمجھ کر پورے نشاط گروپ کے ڈیری کاروبار سے مکمل اخراج کا تاثر دینا بھی درست نہیں۔
نشاط ڈیری کے دستیاب کارپوریٹ ریکارڈ کے مطابق 2025 میں اس کے پاس 3,634 بالغ دودھ دینے والے جانور موجود تھے، جبکہ روزانہ تقریباً 1 لاکھ 10 ہزار لیٹر دودھ کی پیداواری صلاحیت درج کی گئی۔ مالی سال 2025 میں اس کی حقیقی دودھ پیداوار تقریباً 3 کروڑ 97 لاکھ لیٹر رہی۔
اس لیے ایک کمپنی میں ایک شراکت دار کی جانب سے اپنے حصص دوسرے شراکت دار کو منتقل کرنے کو پورے پاکستانی ڈیری شعبے سے اخراج قرار دینا درست تجزیہ نہیں۔
پاکستان کے ڈیری شعبے کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں
یہ بات ضرور تسلیم کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے ڈیری فارمر کو حقیقی مشکلات کا سامنا ہے۔
جانوروں کی خوراک، ونڈے، چارے، بجلی، ادویات، مزدوری، پانی، زمین، قرض اور جانوروں کی صحت کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ دودھ کی قیمت، مارکیٹ تک رسائی اور چھوٹے فارمر کی مالی مشکلات بھی سنجیدہ مسائل ہیں۔
ان مسائل پر حکومت اور صنعت کو ضرور توجہ دینی چاہیے۔
لیکن حقیقی مسائل کی نشاندہی اور خوف و ہراس پھیلانے میں فرق ہے۔
اگر ہم ہر بڑے کاروباری فیصلے کو پاکستان کی کسی پوری صنعت کے خاتمے کی علامت بنا کر پیش کریں گے تو اس کا نقصان صرف سرمایہ کار کو نہیں بلکہ خود کسان اور صنعت کو بھی ہوگا۔
پاکستان کے ڈیری شعبے کو اس وقت خوف کی نہیں بلکہ اعتماد، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، بہتر انتظام، بہتر جانور، بہتر خوراک، مناسب مالی سہولت اور مستقل حکومتی پالیسی کی ضرورت ہے۔
جو لوگ آج پاکستان کے ڈیری شعبے میں کام کر رہے ہیں یا مستقبل میں اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، انہیں کسی ایک کاروباری لین دین سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
کاروبار میں شراکت دار بدلتے ہیں، ملکیت کی ساخت بدلتی ہے اور سرمایہ کاری کے فیصلے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کاروبار چل رہا ہے یا نہیں، سرمایہ کاری جاری ہے یا نہیں، اور مستقبل میں اس شعبے میں مواقع موجود ہیں یا نہیں۔
موجودہ معاملے میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ ترک کمپنی سوتاش کا پاکستان میں کاروبار جاری رکھنے کا ارادہ ہے۔
اس لیے اس معاملے کو پاکستان کی ڈیری صنعت کے خاتمے یا “آخری گھنٹی” کے طور پر پیش کرنا نہ صرف غیر ضروری خوف پیدا کرتا ہے بلکہ ان لوگوں کی حوصلہ شکنی بھی کرتا ہے جو اس شعبے میں محنت، سرمایہ اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
اختلاف کریں، سوال اٹھائیں، حکومت سے جواب مانگیں، کسان کے مسائل پر آواز بلند کریں، لیکن حقائق کو خوف پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ کریں۔
پاکستان کی ڈیری صنعت کو جذباتی نعروں سے زیادہ درست معلومات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، بہتر پالیسی اور مضبوط فارمر معیشت کی ضرورت ہے۔
ڈیری شعبے کو خوف نہیں، اعتماد اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی ڈیری صنعت کے مستقبل کو ایک کاروباری فیصلے سے نہیں، بلکہ مجموعی سرمایہ کاری، پیداوار، مارکیٹ، ٹیکنالوجی اور حکومتی پالیسیوں سے جانچنا چاہیے۔
Save Farmer SavePakistan