A,J taxidermy wonders

A,J taxidermy wonders Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from A,J taxidermy wonders, Pet service, Lahore.

Jadoon Professional Taxidermy
(Formerly A,j taxidermy wonder)
Professional Taxidermist since 1960
Expert in Birds & Mammals Taxidermy
Full Body Mount | Shoulder Mount
Museum & Zoo
Professional best Work
Lahore Pakistan
Worldwide Orders Welcome

15/04/2025

Assalam Alaikum We offer affordable taxidermy services to preserve the memory of your beloved pets and birds after their natural death.
Contact us. 03009406964
And follow our page A,J taxidermy wonders to get the latest information
Flexible neck of peacock 🦚

13/12/2024

https://vm.tiktok.com/ZGdrYorAa/
Assalam Alaikum We offer affordable taxidermy services to preserve the memory of your beloved pets and birds after their natural death. Contact us. 03009406964
And follow our page A,J taxidermy wonders to get the latest information

اسلام علیکم ۔آج ھم ٹائیگر کے بارے بات کریں گے ۔شیر اور ٹائیگر فارمنگ ایک بہترین شوق اور کامیاب کاروبار ھے۔ پاکستان میں ک...
18/11/2024

اسلام علیکم ۔
آج ھم ٹائیگر کے بارے بات کریں گے ۔شیر اور ٹائیگر فارمنگ ایک بہترین شوق اور کامیاب کاروبار ھے۔ پاکستان میں کراچی اور لاھور میں اس کی کامیاب فارمنگ ھو رھی ھے ٹائیگر کی کالی دھاریوں کی وجہ سے اس کی خوبصورتی میں اضافہ ھوتا ھے۔ یہ پالتو ھو تو انسان دوست ھوتا ہے ۔ اور درج ذیل فلم میں جو ٹائیگر ھے وہ ماشاء اللّٰہ ، بہت ھی خوبصورت اور انسان دوست جانور ھے آپ میری اس بات پر یقین نہیں کریں گے لیکن یہ حقیقت ہے۔یہ بہت پیار کرنے والا جانور ھے۔ ۔ ۔آپ اس سے سال میں دو مرتبہ بچے لے سکتے ہیں آپ کو اس کی صحت اور خوراک پر توجہ دینی ھو گی۔ اور ایک تجربے کار ویٹ ڈاکٹر کی خدمات حاصل کرنی ھو گی ۔ ۔۔آپ اس بارے اگر تجربہ رکھتے ھیں تو کمنٹ لازمی دیں ۔شکریہ

ٹائیگر گھنے جنگلات (Tropical Rain Forest)کا رہائشی ہے جہاں اردگرد دریا، سمندر ندی نالہ بھی موجود ہو۔ اس کے علاوہ اسے کچھ گھاس کے میدانوں (Savannah) میں بھی دیکھا گیا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ کبھی اسکی آبادی پورے برصغیر میں پھیلی تھی ۔ اب یہ انڈیا کی جنوبی ریاستوں جہاں جنگلات ھیں بنگلہ دیش کے کچھ حصوں، نقشے پر, ایشیا کے اوپر روس کے علاقے سائیبیریا کے جنگلات، اس کے نیچے شمالی کوریا پھر چین کے کچھ علاقوں سے ہوتا ہوا انڈونیشیا کے گھنے جنگلات اور جزیروں میں ملتا ہے۔ انڈیا کے جنگلات میں اب بھی دنیا کے سب سے زیادہ ٹائیگرز موجود ہیں جنہیں بنگال ٹائیگر کہتے ہیں جبکہ سائیبیریا کے جنگلات میں پائے جانے والے ٹائیگرز کو سائیبیرین ٹائیگر کہتے ہیں۔ دراصل ٹائیگرز کی نسلوں میں زیادہ فرق نہیں جس علاقے میں ٹائیگر موجود ہے اسے اسی علاقے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسکی 9 نسلیں ہیں جن میں سے 3 معدوم ہوچکی ہیں۔
۰ٹائیگر گھنے جنگلوں اور لمبے گھاس کے میدانوں میں پایا جاتا ہے۔ شیر کی طرح یہ بھی رات کا شکاری ہے جو شام ڈھلتے ہی شکار کو نکل پڑتا ہے لیکن دن کو بھی ایک آدھ Snack لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا ۔ شیر کی طرح رات کو تیز نظر تو نہیں رکھتا لیکن انسانوں کے مقابلے میں اندھیرے میں چھ گناہ تیز دیکھ سکتا ہے!
۰ ٹائیگر جنگل میں تقریباً ہر قسم کے جانور شکار کرتا ہے۔ لیکن اس کا اصل شکار ہرن اور جنگلی سئور ہوتے ہیں۔ یہ اپنے سے پانچ گناہ بڑے جانوروں کو ضرورت پڑنے پر دبوچنے کی کوشش کرتا ہے اورشیر اور اس کے شکار میں یہ فرق ہے کہ شیر گروہ بنا کر شکار کرتے ہیں جبکہ یہ اکیلا شکار کرتا ہے ملک بھوٹان میں یہ کسانوں کے بڑے کام آئے جہاں ہرن اور جنگلی سور کھیتوں میں گھس کر فصلیں تباہ کرتے ہیں وہاں رات کو یہ پہنچ کر انہیں دبوچ کر لے جاتے۔
۰ شکار کو یہ ہمیشہ پیچھے سے چھلانگ لگا کر دبوچتا ہے اور سوچنے کا موقع بھی نہیں دیتا ۔ اس کے جسم پر موجود کالی لمبی لائینیں اور کھال کا زرد اورنج رنگ اسے گھاس اور درختوں میں چھپنے میں مدد کرتا ہے۔ ہرن جو تھوڑی Color Blind ہوتی ہے اور زرد رنگ ٹھیک طرح دیکھ نہیں سکتی۔ ٹائیگر کے ہتھے باآسانی چڑھ جاتی ہے۔ ایک مشہور انگریزی کہاوت ہے کہ جنگل میں ٹائیگر ہے لیکن ٹائیگر جنگل میں کہیں نہیں ہے۔
۰اس کے جبڑے کی طاقت 1050 Psi ہے جو کہ شیر کے مقابلے میں دوگنی ہے۔یہ اپنے تیز دانت جانور کی گردن میں گھسا کر اس کا دم گھوٹ ڈالے گا، اس کے پنجے بھی بہت بھاری اور تیز ہیں جن سے شکار گرا لے گا اور زبان ریگ مال (Sand paper) کی طرح جو ہڈی سے کھال اور گوشت کھینچ لے گی۔ اپنے شکار کے ہوش اڑانے کے لئیے اس کی آواز ہی کافی ہے جس کی فریکوئینسی 18 ہرٹز سے بھی کم ہے۔ ایسی آواز جانور تو کیا انسان پہ بھی کپکاہٹ اور سکتا طاری کرکے اس کے ہوش اڑا سکتی ہے۔
۰ ٹائیگر انسانوں کا شکار کر کے بھی بہت بدنام ہوئے اور انسانوں کو اپنے شکار پر آمادہ کرلیا۔ دراصل قصور ان کا نہیں بلکہ انسانوں کا ہے جو بڑھتی آبادی کے سبب ان کے گھروں (جنگلوں) میں گھس آئے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً پچاس افراد ٹائیگرز کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ بلکہ ایک مشہور بنگالی مادہ ٹائیگر جس کا نام چمپاوت تھا۔ نیپال اور انڈیا کے بے شماربندے کھا گئی۔ اس کا نام بھی گینز بک میں شامل کیا گیا۔ یہ کام اس نے 1890 اور 2000 سن کے درمیان کیا۔ چونکہ اس وقت یہاں انگریزوں کی حکومت تھی تو انہوں نے اپنے ایک مشہور سپاہی اور شکاری جیم کاربیٹ کو بھیجا جس نے اس شیطان ٹائیگرہ کو موت کے گھاٹ اتارا۔
۰ بنگالی ٹائیگر اور سائیبیرین ٹائیگر دو بڑی نسلیں ہیں جن میں سے سائیبیرین سب سے بڑی نسل ہے ۔جوکہ سفید رنگ کا ہوتا ہے اس کے جسم پر موٹی چربی کی تہہ اور موٹی کھال ہونے کی وجہ سے موسم سرما میں یہ سائیبیریا کی سخت ترین ٹھنڈ اور برف کو بھی برداشت کر لیتا ہے۔ انڈونیشیا کے جزائر میں بہت ساری نسلیں آباد تھیں جن کا ان کی کھال کے لئیے شکار کیا جاتا رہا ۔ چین اور کچھ دوسرے ملکوں میں اس کے جسم کے تقریباً سب حصے دوا بنانے اور زیبائش کے لئیے استعمال کیے جاتے رہے جس سے اس کی تین نسلیں Bali Tiger , Javan Tiger ( دونوں انڈنویشیا کے جزیرے) Caspian Tiger بحیرہ کیسپئین کے اردگرد علاقے کے ٹائیگر یہ سب معدوم ہوچکے ہیں جنہیں اب کبھی نہیں دیکھا گیا۔
۰ نر اور مادہ ٹائیگر کے دیکھنے میں زیادہ فرق تو نہیں البتہ مادہ نر سے قد اور وزن میں زرا ہلکی ہوتی ہے۔ یہ دو،اڑھائی سال کی عمر میں بریڈ کے قابل ھوتی ھے دو سے پانچ بچے پیدا کرتی ہے ٹائیگر کے کانوں کے پیچھے دو سفید دھبے ہوتے ہیں جو آنکھوں جیسے نظر آتے ہیں۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں یہ انہیں پیچھے سے حملہ آور ہونے والے جانوروں سے بچاتے ہیں تو کچھ یہ بھی مانتے ہیں کہ یہ آنکھ نما دھبے ان کے بچوں کو لمبی گھاس میں مادہ کے پیچھے پیچھے آنے میں مدد کرتے ہیں۔
۰ بہت سارے چڑیا گھر ٹائیگر اور شیر کے ملاپ سے ہائیبر ڈ نسلیں بھی تیار کرتے ہیں۔
۰ ٹائیگر صرف براعظم ایشیا کا باشندہ ہے، افریقہ اور جنوبی امریکہ میں اس کا نام و نشان نہیں۔ جبکہ آسٹریلیا، یورپ ،چائنہ ، پاکستان اور شمالی امریکہ میں یہ چڑیا گھروں اور رہائیش گاہوں کی زینت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جنگلوں میں تقریباً 3900 ٹائیگرز باقی ہیں
۰ یہ بھی شیر کی طرح مختلف جگہوں اور درختوں پر پیشاب کرکے اسے اپنی سلطنت بنا لیتے ہیں۔ یہ پانی میں زبردست تیراکی کرلیتے ہیں اور کئی میل تک چلتے ہیں ۔ یہ انسانوں سے ڈرتے ہیں اور ان کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کبھی رک کر یہ گھور کر دیکھنے لگیں توخاموش رہیں سامنے دیکھیں لیکن گھوریں مت اور ہاتھ ٹانگیں پھیلا کر بڑا نظر آنے کی کوشش کریں اگر ٹائیگر چلا جائے تو ٹھیک اگر حملہ کردے تو اپنا ہاتھ اسکے منہ میں ڈال کرحلق تک دبائیں یہ بھاگ جائے گا۔ پانی میں چھلانگ مت لگائیں یہ آکر دبوچ لے گا درخت پر چڑھ جائیں یہ بمشکل ہی چڑھ پائے گا۔ ایک چہرے والا ماسک الٹا سر کے پیچھے کی طرف پہن لیں کیونکہ یہ عموماً پیچھے سے آکر گردن دبوچتا ہے۔ اس طریقے نے بہت سارے انڈین اور بنگالیوں کی جان بچائی کیونکہ ٹائیگر سمجھتا ہے اسے لگاتار کوئی گھور رہا ہے اس طرح وہ حملہ نہیں کرتا۔ ان کی اوسط عمر تقریباً پندرہ سے اٹھارہ سال تک ھوتی ہے۔

Check out jadoontaxidermist’s video.

09/11/2024

اسلام علیکم ۔ھرن فارمنگ ۔ خرچہ بکری جتنا ۔منافع لاکھوں کا
اپنے خوبصورت پرندوں ، جانوروں کو مرنے کے بعد ضائع نہ کریں لائف ٹائم کیلیئے حنوط کروانے کے لیئے ھم سے رابطہ کریں ۔ یا مناسب قیمت پر ھم پربیچ دیں ۔
ھمارے پیج A,J taxidermy wonders کو لائیک، فالو اور شیئر کریں ،شکریہ

اسلام علیکم ۔آج کی مختصر ویڈیو میں ھم آپ کو حنوط شدہ مور کی دم تیار کرنا دکھائیں گے ۔ مختصر ویڈیو مکمل دیکھیں ۔ شکریہھما...
23/10/2024

اسلام علیکم ۔
آج کی مختصر ویڈیو میں ھم آپ کو حنوط شدہ مور کی دم تیار کرنا دکھائیں گے ۔ مختصر ویڈیو مکمل دیکھیں ۔ شکریہ
ھمارے پیج A,J taxidermy wonders کو لائیک اور فالو کریں شکریہ

Check out Jadoontaxidermy’s video.

چکور فارمنگ ، منافع بخش کاروبار چکور کی تقریبا 20سے زیادہ اقسام ہیں۔چکور پہاڑی اور ریگستانی علاقوں میں  زیادہ پایا جاتا ...
20/10/2024

چکور فارمنگ ، منافع بخش کاروبار
چکور کی تقریبا 20سے زیادہ اقسام ہیں۔چکور پہاڑی اور ریگستانی علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔چکور افریقہ، ایشیا اور یورپ میں پایا جانے والا ایک خوبصورت پرندہ ہے اور اب چکور پالتو پرندے کے طور پر پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ گھروں اور فارموں میں پیدا ہونے والا چکور بہت جلد انسانوں سے مانوس ہو جاتا ہے۔چکور پاکستان کا قومی پرندہ بھی ہے۔

۔فارمی چکور کو شکار گاہوں میں شکار کرنے اور لڑوانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

آج کل چکور فارمنگ بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ پاکستان میں بھی بہت سے بریڈر لاکھوں روپے سالانہ کما رہے ہیں۔چکور فارمنگ بہت ہی منافع بخش کاروبار ہے۔ شروع میں تھوڑا پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔اس کے بعد بہتر ماحول اور خوراک دے کر ہر سال بریڈ لی جا سکتی ہے۔
ان میں بیماری کا حملہ اور شرحِ اموات بھی بہت کم ہوتا ہے۔بشرط یہ کہ وقت پر ویکسینیشن اور ضررورت پڑنے پر ڈاکٹر سے علاج کروا لیا جائے۔

چکور ایک سال میں جوان ہو کر بریڈ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

چکور کے انڈوں سے22 دن میں بچے نکل آتے ہیں۔
چکور گرمیوں کے موسم میں وقفے وقفے سے انڈے دیتے رہتے ہیں۔
👈دیسی چکور ایک سیزن میں 15 انڈے جبکہ فارمی اور کراس بریڈز 50 سے زیادہ انڈے دیتے ہیں۔

👈جب چکور انڈے دینے لگیں تو انڈوں کو اٹھا کر سٹور کرتے جائیں۔اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ انڈے پنجرے میں نہ پڑے رہیں۔اگر آپ انڈے پنجرے میں پڑے رہنے دیں گے تو چکور مزید انڈے نہیں دیں گے۔اس لئے زیادہ سے زیادہ انڈے لینے کے لئے انڈوں کو متواتر اٹھا کر سٹور کرتے جائیں ۔

👈کبھی بھی چکور کو انڈوں پر نہ بٹھائیں۔کیونکہ چکور کا سائز چھوٹا ہوتا ہے وہ اتنے زیادہ انڈوں کو انکیوبیٹ نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے زیادہ تر انڈے خراب ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مادہ چکور کڑک بھی بہت کم ہوتی ہے۔
اس لئے انڈوں سے بچے نکلوانے کے لئے انکیوبیٹر کا استمال کریں۔

👈۔ دو مادہ چکوروں کے لئے ایک نر چکور رکھیں۔اور تمام چکوروں کو ایک ہی بڑے پنجرے یا کمرے میں رکھیں۔
پنجرے یا کمرے کے فرش پر ریت موجود ہونی چاہیے۔

👈بازار میں چھوٹے سائیز کے اچھے انکیوبیٹر 5 سے 7 ہزار روپے میں دستیاب ہیں۔

چکور کی قیمت

چکور کی ہر نسل کی قیمت مختلف ہے۔ چکور کی قیمت کا انحصار ان کی نسل خوبصورتی عمر پر ہوتا ہے۔

خوبصورت اور زیادہ انڈے دینے والے فارمی چکور کی قیمت دس ہزار سے 80 ہزار تک ہوتی ہے۔

دیسی اور فارمی چکور کی قیمت میں زیادہ فرق نہیں ہے۔لیکن فارمی چکور منافع کے لحاظ سے زیادہ فائدہ مند ہے۔

👈۔ ہمیشہ فارمی چکور کی فارمنگ کریں کیوں کہ یہ دیسی چکور کی نسبت زیادہ انڈے دیتے ہیں۔
فارمی چکور کے 50 انڈوں میں سے 40 انڈوں سے بچے آسانی سے نکل آتے ہیں۔
اگر آپ دو مادہ اور ایک نر چکور بہتر ماحول میں رکھیں تو ہر سال کم از کم ڈیڑھ لاکھ کما سکتے ہیں۔

👈خوراک 👉
چکور کیڑے مکوڑے ، سبزیاں، دالیں، باجرہ اور مختلف بیج،تل وغیرہ کھاتے ہیں۔

Check out Jadoontaxidermy’s video.

سرخ سنہرا فیزنٹ (Red golden pheasant)کی حنوط کاری ۔تفصیل سرخ سنہرا فیزنٹ درج ذیل ھے۔یه شوخ رنگ اور جاذب نظر پرنده ھے, دن...
14/10/2024

سرخ سنہرا فیزنٹ (Red golden pheasant)کی حنوط کاری ۔
تفصیل سرخ سنہرا فیزنٹ درج ذیل ھے۔
یه شوخ رنگ اور جاذب نظر پرنده ھے, دنیا کے تقریبأ بیشتر رنگ اس خوبصورت پرندے میں پاۓ جاتے ھیں, صرف نر کے پر ھی رنگین ھوتے ھیں, ماده کے پروں کی رنگت براؤن ھوتی ھے جن پر سیاه رنگ کے دھبے ھوتے ھیں, اپنے قدرتی ماحول میں یه گروپ بنا کر رھتے ھیں, سارا دن زمین پر چل پھر کر اپنی خوراک تلاش کرتے ھیں, اڑ سکتے ھیں لیکن اڑنے کی بجاۓ زمین پر چلنے پھرنے کو ترجیح دیتے ھیں, رات کو درختوں کی چوٹیوں پر بسیرا کرتے ھیں-
نر کے جسم کی کل لمبائی 90-105 سنٹی میٹر ھوتی ھے جس میں 2/3 حصه دم ھوتی ھے, پروں کا پھیلاؤ 70 سنٹی میٹر اور اوسطأ وزن 630 گرام ھوتا ھے, سر پر سنھری پروں کا خوبصورت تاج ھوتا ھے, گردن سے لیکر بالائی کمر تک سرخ سروں والے سنھری پروں سے بنی خوبصورت جھالر ھوتی ھے جسے رف کھا جاتا ھے, سینه اور پیٹ کے پروں کی رنگت چمکدار سرخ ھوتی ھے, چونچ, ٹانگیں اور پاؤں ییلو ھوتے ھیں, کمر کے پروں کی رنگت سبزی مائل اور زیریں کمر سنھری ھوتی ھے, دم لمبی اور اسکا رنگ زردی مائل براؤن ھوتا ھے جس پر سیاه رنگ کے دھبے ھوتے ھیں- ماده کے پر ساده اور براؤن رنگ کے ھوتے ھیں جن پر سیاه رنگ کے دھبے ھوتے ھیں, چھره,گلا اور سینه زردی مائل براؤن رنگ کا ھوتا ھے, پاؤں کی رنگت زردی مائل ھوتی ھے-ماده کے جسم کی لمبائی 60-80 سنٹی میٹر ھوتی ھے

افزائش نسل :-

نر کے جسم پر رنگدار شوخ پر دو سال کی عمر میں پورے ھوتے ھیں لیکن یه ایک سال کی عمر میں جوان ھو جاتے ھیں, بریڈنگ سیزن فروری سے جون تک ھوتا ھے, ایک کلچ میں انڈوں کی تعداد 8-12 ھوتی ھے, انکوبیشن کا دورانیه 22-24 دن کا ھوتا ھے-

پنجره :-

اپنے قدرتی ماحول میں یه سارا دن زمین پر چلنے پھرنے میں گزارتے ھیں, اسلیے انھیں بڑے سائز کے پنجروں کی ضرورت ھوتی ھے, برڈ روم کی پیمائش 5×4 فٹ اور اونچائی 6 فٹ ھونی چاھیے, اوپن پن کی پیمائش 5× 12 فٹ ھونی چاھیے, اس پیمائش کے پنجرے میں ایک نر اور 4-5 ماده رکھی جا سکتیں ھیں, پنجرے میں جھاڑوں کی موجودگی انھیں موسمی شدت کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتی ھیں اور انھیں قدرتی ماحول میں رھنے کا احساس دیتی ھیں-

خوراک :-

اپنے قدرتی ماحول میں مختلف بیج, پودوں کی کونپلیں, پھول پھل سبزیاں اور کیڑے مکوڑے انکی خوراک ھوتی ھے, پنجرے میں انھیں دی جانے والی خوراک میں پروٹین کا تناسب 28 فیصد ھونا چاھیے,
سبز چاره جات اور سبزیاں بھی انکی خوراک کا حصه ھونا چاھیں-

Check out Jadoontaxidermy’s video.

13/10/2024

اسلام علیکم
ٹائیگر کی ظاہری شکل
بنگال ٹائیگر کا کوٹ پیلے سے ہلکے نارنجی تک ہوتا ہے، جس کی دھاریاں گہرے بھورے سے سیاہ تک ہوتی ہیں۔ پیٹ اور اعضاء کے اندرونی حصے سفید ہوتے ہیں، اور دم نارنجی رنگ کے سیاہ حلقے ہوتے ہیں۔ سفید شیر ایک متواتر اتپریورتی ہے، جس کی اطلاع جنگلات میں وقتاً فوقتاً آسام، بنگال، بہار اور خاص طور پر سابقہ ​​ریاست ریوا میں ملتی ہے۔ تاہم، بنگال ٹائیگر کے غیر معمولی طور پر مضبوط دانت ہوتے ہیں۔ اس کے کینائن 7.5 سے 10 سینٹی میٹر (3.0 سے 3.9 انچ) لمبے ہوتے ہیں اور اس طرح تمام بلیوں میں سب سے لمبے ہوتے ہیں۔
آج بنگال ٹائیگرز ہندوستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور جنوب مغربی چین میں پائے جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے سندربن میں شیر دنیا میں واحد شیر ہیں جو مینگروو کے جنگلات میں آباد ہیں۔ بنگال ٹائیگرز ہمالیہ کے ذیلی خطوں میں اور اونچی بلندی پر پہاڑی جنگلات میں بھی پائے جاتے ہیں۔
شیر کی بنیادی سماجی اکائی مادہ اور اس کی اولاد پر مشتمل ہے۔ دونوں جنس کے رہائشی بالغ افراد گھریلو حدود کو برقرار رکھتے ہیں، اپنی نقل و حرکت کو مخصوص رہائش گاہوں تک محدود رکھتے ہیں جہاں وہ اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں، جن میں شکار، پانی اور پناہ گاہ شامل ہیں۔ اس سائٹ پر، وہ دوسرے شیروں، خاص طور پر مخالف جنس کے شیروں سے بھی رابطہ برقرار رکھتے ہیں۔ ایک ہی زمین پر رہنے والے ایک دوسرے کی حرکات و سکنات سے بخوبی واقف ہیں۔ ایک نر شیر اپنی حدود میں متعدد خواتین کی گھریلو حدود کو شامل کرنے کے لیے ایک بڑا علاقہ رکھتا ہے، تاکہ وہ ان کے ساتھ ملن کے حقوق کو برقرار رکھ سکے۔ علاقائی تنازعات کو عام طور پر صریح تشدد کی بجائے ڈرا دھمکا کر حل کیا جاتا ہے۔ ایک بار جب غلبہ قائم ہو جاتا ہے، تو ایک مرد اپنی حدود میں ماتحت کو برداشت کر سکتا ہے، جب تک کہ وہ بہت قریبی حلقوں میں نہ رہتے ہوں۔ ٹائیگرز کو بنیادی طور پر رات کے شکاری سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ دن کی روشنی میں بھی شکار کر سکتے ہیں۔ وہ عام طور پر اکیلے شکار کرتے ہیں اور اپنے شکار پر گھات لگاتے ہیں جیسا کہ دوسری بلیاں کرتی ہیں۔ زیادہ تر معاملات میں، شیر اپنے شکار کے پاس سے یا پیچھے سے ممکن حد تک قریب سے آتے ہیں اور شکار کو مارنے کے لیے اس کا گلا پکڑ لیتے ہیں۔ پھر وہ لاش کو ڈھکنے کے لیے، کبھی کبھار کئی سو میٹر سے زیادہ، اسے کھا جاتے ہیں۔ ٹائیگرز مضبوط تیراک ہیں ۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when A,J taxidermy wonders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share