Rehbar

Rehbar 𝙥𝙡𝙚𝙖𝙨𝙚 👍𝙥𝙖𝙜𝙚 👉𝙍𝙚𝙝𝙗𝙖𝙧 𝙛𝙤𝙧 𝙌𝙪𝙖𝙡𝙞𝙩𝙮 & 𝙎𝙩𝙖𝙣𝙙𝙖𝙧𝙙 𝙥𝙤𝙨𝙩𝙞𝙣𝙜

🇵🇸 فلسطین (1948ء سے اب تک):1948ء (نکبہ) سے لے کر حالیہ ہولناک جنگ تک، اسرائیلی جارحیت اور مختلف تنازعات کے نتیجے میں اب ...
02/07/2026

🇵🇸 فلسطین (1948ء سے اب تک):
1948ء (نکبہ) سے لے کر حالیہ ہولناک جنگ تک، اسرائیلی جارحیت اور مختلف تنازعات کے نتیجے میں اب تک 75,000 سے 80,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ بالخصوص حالیہ جنگ میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں 70 فیصد تعداد صرف معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔
​🇵🇰 پاکستان کا پشتون خطہ (2001ء سے اب تک):
دہشت گردی کے خلاف جنگ (War on Terror) اور عسکری آپریشنز کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے پشتونوں نے اٹھایا۔ بین الاقوامی تحقیقی اداروں (جیسے براؤن یونیورسٹی اور SATP) کے مطابق، اس جنگ میں 80,000 سے 90,000 کے قریب پاکستانی جاں بحق ہوئے، جن میں ایک بہت بڑی تعداد مقامی پشتون شہریوں، عورتوں اور بچوں کی تھی جنہوں نے اپنے ہی گھروں میں اس جنگ کا عذاب جھیلا۔
​⚖️ درد مشترک ہے:
چاہے وہ غزہ کی گلیاں ہوں یا وزیرستان اور سوات کے پہاڑ—جنگ چلی تو بارود نے نسلیں اجاڑ دیں۔ ایک طرف دہائیوں پر محیط ریاستی جبر اور اپنے حقِ خودارادیت کی جنگ ہے، تو دوسری طرف دہشت گردی اور جغرافیائی جنگوں کا وہ ایندھن جو معصوم شہریوں کو نگل گیا۔
​امن صرف ایک لفظ نہیں، ان لاکھوں ماؤں، بچوں اور مظلوموں کا حق ہے جن کی قربانیوں کو دنیا اکثر صرف "اعدادوشمار" سمجھ کر بھول جاتی ہے۔
​

تاریخ کا ایک عبرت ناک سبق: جنرل ضیاء کا دور اور معصوم پپو کا کیس​یہ کہانی بالکل سچ ہے! اکتوبر 1977 میں لاہور کے ایک معصو...
26/06/2026

تاریخ کا ایک عبرت ناک سبق: جنرل ضیاء کا دور اور معصوم پپو کا کیس
​یہ کہانی بالکل سچ ہے! اکتوبر 1977 میں لاہور کے ایک معصوم بچے "پپو" کو اغوا اور زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس لرزہ خیز واقعے پر پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
​مارشل لاء کا دور تھا، جنرل ضیاء الحق نے کیس فوجی عدالت کے حوالے کیا اور مجرموں کو لاہور میں سرعام پھانسی کی سزا دی گئی۔ عوام کو عبرت دلانے کے لیے مجرموں کی لاشوں کو سرعام لٹکایا گیا تھا۔
​اس سخت اور فوری انصاف کا یہ اثر ہوا کہ اگلے کئی سالوں تک کسی مجرم کو کسی معصوم بچے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہیں ہوئی۔
​آج کا دور اور وہ دور... فرق صاف ظاہر ہے۔ جب تک سزا عبرت ناک نہیں ہوگی، معصوم محفوظ نہیں ہوں گے۔
​

25/04/2026

اسلامی تعلیمات اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں کچھ ایسے گناہگاروں کا ذکر ملتا ہے جن کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں کہ وہ جنت میں (شروع میں یا براہِ راست) داخل نہیں ہو سکیں گے یا ان پر جنت "حرام" کر دی گئی ہے

​ایک مشہور حدیث (سنن نسائی اور مسند احمد) کے مطابق وہ تین افراد یہ ہیں:
​1. معتاد الخمر (شراب کا عادی)
​وہ شخص جو توبہ کیے بغیر شراب نوشی کی حالت میں مر جائے یا جس کی زندگی شراب نوشی کی لت میں گزری ہو۔ نشہ آور چیزوں کا استعمال اسلام میں بڑے گناہوں میں شمار ہوتا ہے۔
​2. عاق الوالدین (والدین کا نافرمان)
​وہ شخص جو اپنے والدین کو دکھ دیتا ہے، ان کی نافرمانی کرتا ہے یا ان کے ساتھ بدتمیزی اور بدسلوکی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، اس لیے ان کی نافرمانی جنت کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔
​3. الدیّوث (دیوث)
​دیوث اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنے گھر والوں (اہل و عیال) میں بے حیائی اور فحاشی کو دیکھ کر اسے برقرار رکھے اور اسے برا محسوس نہ کرے یا اس پر غیرت نہ کھائے۔ یعنی وہ شخص جو اپنے گھر میں ہونے والی بے حیائی پر خاموش رہے اور اسے روکنے کی کوشش نہ کرے۔
​ایک اہم نکتہ:
علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سچے دل سے توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔ یہ وعیدیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو ان گناہوں پر اصرار کرتے ہیں اور توبہ کے بغیر اسی حال میں دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

21/03/2026
25/01/2026

ابنِ خلدون اور امیر تیمور کا مکالمہ (1401ء)

​یہ واقعہ تاریخی طور پر انتہائی مستند ہے۔ جب امیر تیمور نے دمشق کا محاصرہ کیا، تو مشہور مورخ اور فلسفی ابنِ خلدون کو قلعے سے ایک ٹوکرے کے ذریعے نیچے اتار کر تیمور کے پاس بھیجا گیا۔

• ​سچائی کی طاقت: تیمور ایک سفاک فاتح تھا، لیکن ابنِ خلدون نے اس سے ڈرنے کے بجائے اس کی فتوحات کو تاریخ کے تناظر میں بیان کرنا شروع کیا۔ انہوں نے اسے بتایا کہ "تمہاری فتوحات قدرت کا ایک نظام ہیں، لیکن قوموں کا زوال تب آتا ہے جب وہ اپنی اصل (عصبیت) کھو دیتی ہیں۔"

• ​نتیجہ: تیمور ان کی دانائی سے اتنا متاثر ہوا کہ ان کے کہنے پر دمشق کے کئی علماء اور عام لوگوں کی جان بخشی کر دی۔

25/01/2026

. امام ابنِ تیمیہ اور تاتاری حکمران "قازان خان"

​ساتویں صدی ہجری کے اواخر میں، جب تاتاریوں نے شام پر حملے شروع کیے اور دمشق کو خطرہ لاحق ہوا، تو جلیل القدر عالم دین امام ابنِ تیمیہؒ نے دمشق کے دفاع کا بیڑا اٹھایا۔ وہ دیگر علماء کے ساتھ تاتاری حکمران قازان خان (جو بظاہر اسلام قبول کر چکا تھا) سے ملنے پہنچے۔

​قازان خان نے وفد کو کھانے پر بلایا۔ سب علماء خوف زدہ تھے اور دسترخوان پر خاموشی سے کھانا تناول فرما رہے تھے، مگر امام ابنِ تیمیہؒ نے کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا۔ جب بادشاہ نے پوچھا کہ آپ کھانا کیوں نہیں کھا رہے، تو امام نے بے خوفی سے جواب دیا:

​"یہ کھانا میں کیسے کھاؤں؟ یہ تم نے مسلمانوں کے مال سے لوٹا ہے اور اس کو پکانے کے لیے جو لکڑیاں استعمال ہوئی ہیں وہ تم نے مسلمانوں کے باغات سے کاٹی ہیں۔ یہ کھانا حرام ہے، اور میں حرام نہیں کھاتا۔"

​امام ابنِ تیمیہؒ نے قازان خان کو اس کے مظالم پر سخت تنقید کی اور اسے اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ قازان خان امام کی حق گوئی، بے باکی اور اللہ پر توکل دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس کی ہیبت امام کے سامنے ماند پڑ گئی۔ اس مکالمے کا نتیجہ یہ نکلا کہ قازان خان نے دمشق پر حملے کا ارادہ ترک کر دیا اور مسلمان قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

​حاصلِ سبق: حق بات کہنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے، چاہے سامنے کتنی ہی بڑی طاقت کیوں نہ ہو۔ اللہ پر توکل کرنے والا کبھی نہیں ڈرتا۔

​

1. سلطان محمود غزنوی اور بوڑھی عورت کا انصاف​سلطان محمود غزنوی ایک عظیم فاتح تھے، لیکن ان کے دور میں ایک دل دہلا دینے وا...
24/01/2026

1. سلطان محمود غزنوی اور بوڑھی عورت کا انصاف
​سلطان محمود غزنوی ایک عظیم فاتح تھے، لیکن ان کے دور میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ ایک غریب، بے سہارا بوڑھی عورت کا اکلوتا بیٹا ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا۔ انصاف کی تلاش میں وہ کئی دن کا سفر طے کر کے سلطان کے دربار میں پہنچی اور فریاد کرنے لگی۔
​سلطان نے تعجب سے پوچھا، "ماں! تمہارا علاقہ دارالحکومت سے بہت دور ہے، میں وہاں کی خبر کیسے رکھ سکتا ہوں اور ہر جگہ امن و امان کیسے قائم کر سکتا ہوں؟"
​اس بوڑھی عورت نے کمال حکمت اور جرات سے ایسا جواب دیا جس نے سلطان کے دل کو چھو لیا اور اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔ اس نے کہا:
​"اے محمود! اگر تم اتنے بڑے علاقے کا انتظام نہیں سنبھال سکتے جتنا تم نے فتح کیا ہے، تو پھر اتنا علاقہ فتح ہی کیوں کرتے ہو جس کا تم جواب نہیں دے سکو گے؟ اگر تم اپنی رعایا کو تحفظ نہیں دے سکتے تو اتنی بڑی سلطنت کا کیا فائدہ؟"
​سلطان محمود غزنوی اس جواب سے اتنے متاثر ہوئے کہ نہ صرف اس بوڑھی عورت کو انصاف دلایا بلکہ فوری طور پر اپنی سلطنت کے دور دراز علاقوں میں امن و امان اور سیکیورٹی کا نظام مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے۔ یہ واقعہ آج بھی حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دلاتا ہے۔
​حاصلِ سبق: حکمران کی ذمہ داری صرف فتح کرنا نہیں، بلکہ اپنی رعایا کو تحفظ اور انصاف فراہم کرنا ہے۔
​** #انصاف #حکمرانی

🏔️ ریاستِ سوات: ایک سنہرا دور اور یادگار ماضی​یہ تصویر صرف ایک بازار کی نہیں، بلکہ سوات کے اس نظم و ضبط اور خوبصورتی کی ...
04/01/2026

🏔️ ریاستِ سوات: ایک سنہرا دور اور یادگار ماضی
​یہ تصویر صرف ایک بازار کی نہیں، بلکہ سوات کے اس نظم و ضبط اور خوبصورتی کی گواہی ہے جو کبھی اس ریاست کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔
​مین بازار منگورہ کی یہ تاریخی جھلک ہمیں 1960 کی دہائی میں لے جاتی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب سوات ایک خود مختار ریاست تھی اور اپنی بہترین انتظامیہ، صاف ستھرے بازاروں اور منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھی۔
​✨ چند اہم تاریخی حقائق:
​خود مختار ریاست: سوات 1969 تک ایک مکمل خود مختار ریاست رہی۔
​پاکستان میں شمولیت: 1969 میں اس ریاست کا پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق ہوا۔
​ترقی کا دور: والیِ سوات کے دور میں تعلیم، صحت اور سڑکوں کا جال بچھایا گیا جو آج بھی ایک مثال ہے۔
​فنِ تعمیر: تصویر میں نظر آنے والی عمارتیں اس دور کے مخصوص آرکیٹیکچر کی عکاسی کرتی ہیں جہاں سادگی اور پائیداری نمایاں تھی۔
​آج کا منگورہ بدل چکا ہے، لیکن یہ پرانی تصویریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ سوات کی بنیادوں میں کتنا گہرا تمدن اور تہذیب چھپی ہوئی ہے۔
​
​ #سوات #منگورہ

🏔️ ریاستِ سوات: ایک سنہرا دور اور یادگار ماضی​یہ تصویر صرف ایک بازار کی نہیں، بلکہ سوات کے اس نظم و ضبط اور خوبصورتی کی ...
04/01/2026

🏔️ ریاستِ سوات: ایک سنہرا دور اور یادگار ماضی
​یہ تصویر صرف ایک بازار کی نہیں، بلکہ سوات کے اس نظم و ضبط اور خوبصورتی کی گواہی ہے جو کبھی اس ریاست کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔
​مین بازار منگورہ کی یہ تاریخی جھلک ہمیں 1960 کی دہائی میں لے جاتی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب سوات ایک خود مختار ریاست تھی اور اپنی بہترین انتظامیہ، صاف ستھرے بازاروں اور منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھی۔
​✨ چند اہم تاریخی حقائق:
​خود مختار ریاست: سوات 1969 تک ایک مکمل خود مختار ریاست رہی۔
​پاکستان میں شمولیت: 1969 میں اس ریاست کا پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق ہوا۔
​ترقی کا دور: والیِ سوات کے دور میں تعلیم، صحت اور سڑکوں کا جال بچھایا گیا جو آج بھی ایک مثال ہے۔
​فنِ تعمیر: تصویر میں نظر آنے والی عمارتیں اس دور کے مخصوص آرکیٹیکچر کی عکاسی کرتی ہیں جہاں سادگی اور پائیداری نمایاں تھی۔
​آج کا منگورہ بدل چکا ہے، لیکن یہ پرانی تصویریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ سوات کی بنیادوں میں کتنا گہرا تمدن اور تہذیب چھپی ہوئی ہے۔
​🏷️ ہیش ٹیگز (Hashtags):
​ #سوات #منگورہ

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 08:00 - 21:30
Tuesday 08:00 - 21:30
Wednesday 08:00 - 21:30
Thursday 08:00 - 21:30
Friday 08:00 - 21:30
Saturday 08:00 - 21:30
Sunday 08:00 - 21:30

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rehbar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share