26/08/2025
ریچھ کے بچے کو جنگل سے نکالنے سے پہلے اس کی ماں کو بے دردی سے مار دیا جاتا ہے، کیونکہ زندہ حالت میں وہ اپنے بچے کو کبھی جدا نہیں ہونے دیتی۔ یوں ایک بچے کے ساتھ دو جانیں ضائع ہوتی ہیں اور ریچھ، جو پہلے ہی ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، مزید بربادی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
لیکن ظلم یہیں ختم نہیں ہوتا…
🐾 ٹریننگ سے پہلے ان کے دانت ہتھوڑے مار کر توڑ دیے جاتے ہیں یا رگڑ دیے جاتے ہیں، ناخن کھینچ کر نکال دیے جاتے ہیں تاکہ یہ معصوم جانور اپنی حفاظت نہ کر سکیں۔
🐾 ان کی ناک میں سوراخ کر کے لوہے کی نتھ ڈالی جاتی ہے۔
🐾 "ڈانس" سکھانے کے لیے ریچھ کو دہکتی ہوئی دھات کی پلیٹوں پر کھڑا کیا جاتا ہے۔ جلن اور درد کے مارے وہ بار بار اپنے پاؤں اٹھاتے ہیں، ادھر سے ادھر کودتے ہیں—یہی ظلم عوام کو "ڈانس" نظر آتا ہے۔ اصل میں وہ صرف تکلیف سے بچنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ عمل بار بار میوزک اور مداری کی آواز کے ساتھ دہرایا جاتا ہے، یہاں تک کہ ریچھ کو سمجھ آ جاتا ہے کہ موسیقی اور نکیل کا کھنچاؤ درد کی علامت ہیں۔ پھر وہ اپنی جان بچانے کے لیے یہ غیر فطری حرکت دہرانے لگتا ہے۔
😔 سوچئے! یہ "تماشہ" آپ کی تفریح نہیں بلکہ اس معصوم جانور کے لئے مسلسل اذیت ہے۔
اب سوال یہ ہے:
کیا ایسی روزی جو اللہ کی مخلوق کو ظلم و اذیت میں ڈال کر کمائی جائے، حلال ہو سکتی ہے؟
کیا ہم ان "مداریوں" کو غریب سمجھ کر ان کی مدد کر کے اس ظلم کا حصہ نہیں بنتے؟
🙏 خدارا اپنے دلوں میں رحم پیدا کیجیے۔
جہاں بھی ایسے ظالم مداری نظر آئیں، فوراً متعلقہ محکمے کو اطلاع دیں۔
ان کی طرف داری نہ کریں، بلکہ اس ظلم کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔