01/08/2026
مینڈک کو کہیں معمولی نہ سمجھ لینا یہ اللہ کی قدرت کی زندہ نشانی ہے؟
آپ نے کبھی ایسے جاندار کے بارے میں سنا ہے جس کے بچے اسکے پیٹ سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ اس کی پشت کی جلد
کو پھاڑ کر باہر آتے ہیں؟ جی ہاں! یہ ہے امیزون جنگل کا "سرینام ٹوڈ" جس کے تولیدی نظام کو دیکھ کرسائنسدان بھی اللہ کی حکمت کے آگے سرجھکانے پر مجبور ہوگئے۔یہ مینڈک عام مینڈکوں کی طرح پانی میں انڈے لاوارث نہیں چھوڑتا، بلکہ قدرت نے اس کے لیے ایک ناقابلِ یقین نظام بنایا ہے۔
مادہ سرینام مینڈک ایک وقت میں تین سے دس انڈے دیتی ہے تو اسی لمحے نر مینڈک انہیں فرٹیلائز کرکے اپنے پاؤن کی مدد سے مادہ کی پشت پر چپکادیتا ہے۔ انڈے پیٹھ پر آنے کے بعد مادہ کی جلد سُوج جاتی ہے اور انڈے اس کی نرم چمڑی کے اندر دھنس جاتے ہیں۔اگلے چند دنوں میں مادہ کی چمڑی ان انڈوں کے اوپر بڑھ کر ایک باقاعدہ "شہد کے چھتےجیسی کٹوریاں بنا دیتی ہے۔ جیسے ہر بچہ اپنے الگ کمرے میں بند ہو جاتا ہے۔ مادہ کی پشت ایک نرسری کا کام کرتی ہے اور انڈے اور بچے پانی کے خطرناک شکاریوں کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔تقریباً 3 سے 4 ماہ بعد، یہ مکمل مینڈک بن کر اپنی ماں کی پیٹھ کی جلد کو پھاڑ کر براہِ راست باہر نکلتے ہیں۔
اس بے عیب اور پیچیدہ انجینئرنگ کو دیکھ کر قرآنِ مجید کی سورہ النُور کی آیت یاد آتی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
"اور اللہ نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ تو ان میں سے کوئی اپنے پیٹ کے بل چلتا ہے، اور ان میں سے کوئی دو ٹانگوں پر چلتا ہے، اور ان میں سے کوئی چار (ٹانگوں) پر چلتا ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔"
غور کیجیے! اس مینڈک کو پانی کے اندر اس قدر پیچیدہ طریقے سے فرٹیلائزیشن کرنے کا طریقہ کس نے سکھایا؟ مادہ کی پیٹھ کو بچوں کے لیے محفوظ نرسری بنانے کا ڈیزائن کس نے تیار کیا؟
وہ صرف اللہ ہے جو " المُصَوّر" یعنی صورت گری کرنے والا بھی ہے اور "الباری "یعنی عدم سے وجود میں لانے والا بھی ہے۔
سائنس کی اس حیرت انگیز دریافت اور اللہ کی اس عظیم نشانی کو دیکھ کر آپ کے دل سے کیا آواز نکلتی ہے؟ کمنٹ میں سبحان اللہ لازمی لکھیں اور یہ معلومات دوسروں تک ضرور پہنچائیں