28/08/2026
لمپی سکن بیماری — آغاز سے پاکستان تک کا سفر
لمپی سکن مویشیوں میں پھیلنے والی ایک خطرناک وائرل بیماری ہے، جس کا وائرس کیپری پاکس وائرس گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔
اس بیماری کی پہلی باقاعدہ نشاندہی 1929 میں زیمبیا میں ہوئی۔ ابتدا میں اسے کیڑوں کے کاٹنے یا زہریلے اثرات سے منسوب کیا جاتا تھا۔ بعد میں 1943 سے 1945 کے دوران جنوبی افریقہ، بوٹسوانا اور زمبابوے میں پھیلاؤ کے بعد اس کی متعدی نوعیت واضح ہوئی۔
کئی دہائیوں تک یہ بیماری زیادہ تر افریقہ تک محدود رہی، پھر مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور ایشیا تک پھیل گئی۔ جنوبی ایشیا میں 2019 میں بھارت اور بنگلہ دیش میں اس کے کیسز سامنے آئے، جس کے بعد یہ خطے کے دیگر ممالک تک بھی پہنچی۔
پاکستان میں لمپی سکن کا پہلا تصدیق شدہ کیس نومبر 2021 میں سندھ کے ضلع جامشورو میں رپورٹ ہوا۔ اس کے بعد بیماری نے سندھ کے مختلف علاقوں میں تیزی سے پھیلاؤ اختیار کیا۔
پاکستان میں یہ بیماری کس ایک راستے سے داخل ہوئی، اس کا حتمی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم متاثرہ جانوروں کی نقل و حرکت اور خون چوسنے والے کیڑے، خصوصاً مکھیاں، مچھر اور ٹِکس، وائرس کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ویکسین کے حوالے سے
لمپی سکن کے خلاف نیتھلنگ قسم کی ویکسین اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض حالات میں شیپ پاکس اور گوٹ پاکس ویکسینز بھی حفاظتی اثر دے سکتی ہیں۔
ویکسین کا انتخاب اور شیڈول مستند ویٹرنری ڈاکٹر یا محکمۂ لائیو اسٹاک کی ہدایت کے مطابق ہونا چاہیے۔
ویکسینیشن، جانوروں کی نقل و حرکت میں احتیاط اور خون چوسنے والے کیڑوں کا کنٹرول لمپی سکن سے بچاؤ کے اہم اقدامات ہیں۔