13/08/2026
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے، وہ کِھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
(شاعر: احمد ندیم قاسمی)
اضافی اشعار
ہر ایک شہر میں روشن ہو امن کا سورج
کسی کے گھر میں بھی آہ و فغان و ملال نہ ہو
وطن کی خاک پہ مہکے وفا کی خوشبو یوں
کہ دشمنوں کے لیے کوئی راہِ وبال نہ ہو
نئی سحر کے اجالوں سے بھر اٹھیں آنکھیں
کسی بھی نسل کے لب پر کوئی سوال نہ ہو
خدا کرے کہ ترے سبز پرچموں کے تلے
دلوں میں خوف نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو